اتر پردیش: مہاراجہ سہیل دیو میڈیکل کالج احاطہ میں موجود تقریباً 12 مزاروں پر چلا بلڈوزر
سٹی مجسٹریٹ راجیش نے بتایا کہ 10 جنوری 2026 کو متعلقہ فریق کو ناجائز مزاریں 17 جنوری تک ہٹانے کا نوٹس دیا گیا تھا۔ انھوں نے مزاروں کو نہیں ہٹایا اس لیے پولیس کی موجودگی میں اس پر بلڈوزر چلایا گیا۔

اتر پردیش کے بہرائچ میں مہاراجہ سہیل دیو میڈیکل کالج احاطہ میں موجود تقریباً 12 مزاروں پر انتظامیہ نے آج بلڈوزر چلا دیا۔ ضلع انتظامیہ نے یہ انہدامی کارروائی ایسے وقت میں کی ہے جب متعلقہ فریق سے خود مزاروں کو ہٹانے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن انھوں نے مقررہ وقت تک اسے نہیں ہٹایا۔ بتایا جاتا ہے کہ 24 سال قبل اُس وقت کے سٹی مجسٹریٹ نے ان مزاروں کو ناجائز بتایا تھا۔ اس کے بعد مزاروں کا انتظام دیکھنے والوں نے کمشنر کے یہاں اپیل کی تھی۔ 7 سال قبل 2019 میں کمشنر نے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو درست قرار دیا تھا، جس کے بعد مزاروں کے انہدام کا راستہ ہموار ہو گیا تھا۔
دراصل ضلع مجسٹریٹ دفتر کے پاس موجود میڈیکل کالج سے ملحق رسول شاہ باسواڈی کا آستانہ ہے۔ اس میں پہلے صرف 2 مزاریں تھیں، جو وقف بورڈ میں درج ہیں۔ اس کی دیکھ ریکھ کرنے والے لوگوں نے تقریباً 10 دیگر چھوٹیں مزاریں بعد میں قائم کر دیں۔ ان مزاروں کو 2002 میں اُس وقت کے سٹی مجسٹریٹ نے غیر قانونی طریقے سے بنا ہوا بتایا تھا اور اسے ختم کرنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ بعد ازاں کمیٹی نے ضلع مجسٹریٹ کے یہاں اپیل کی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی کے ذریعہ کی گئی اپیل کو 2004 میں ہی خارج کر دیا گیا تھا۔ پھر متعلقہ فریق نے ڈویژنل کمشنر کے یہاں حکم کے خلاف اپیل کی 2019 میں وہاں سے بھی کوئی راحت نہیں ملی۔ اس کے بعد کمیٹی نے انتظامیہ سے کہا تھا کہ وہ خود ان مزاروں کو ہٹا دیں گے۔ 2023 میں جب میڈیکل کالج بنا تو یہ مزاریں اس کے احاطے میں آ گئی تھیں۔ اس معاملہ میں موجودہ سٹی مجسٹریٹ راجیش پرساد نے بتایا کہ 10 جنوری 2026 کو ہی متعلقہ فریق سے کہا گیا تھا کہ وہ ناجائز مزاریں 17 جنوری تک ہٹا دیں۔ اس سلسلہ میں نوٹس جاری کیا گیا تھا، لیکن مزاروں کو نہیں ہٹایا گیا۔ آخر میں ضلع مجسٹریٹ کی ہدایت پر پولیس فورس کی موجودگی میں ان مزاروں کو بلڈوزر چلا کر منہدم کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صرف 2 مزاریں ہی جائز طریقے سے وقف بورڈ میں درج تھیں، انھیں چھوڑ کر دیگر مزاروں کو ہٹا دیا گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔