آزاد ہوئے چندر شیکھر کا بیان ’میرا مقصد، بی جے پی کو ہرانا‘

راون نے کہا، ’’بہن جی (مایاوتی) میری بوا ہیں، خون کا رشتہ ہے، ان کی مخالفت نہیں کروں گا۔ بی جے پی کو ہرانے والی طاقتوں کی تشہیر کروں گا۔‘‘

سہارنپور: دلت نوجوانوں کے ہیرو بھیم آرمی کے بانی چندرشیکھر عرف راون کو آدھی رات کے بعد تقریباً 2.30 بجے سہارنپور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل کے باہر ہزاروں کی تعداد میں دلت نوجوانوں نے ان کا استقبال کیا اور جشن منایا۔

راون کو گزشتہ سال ہماچل پردیش کے ڈلہوزی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر سہارنپور میں تشدد پھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔ دراصل سہارنپور کے شبیر پور گاؤں میں دلتوں اور ٹھاکروں میں جھگڑا ہوا تھا، اس دوران ٹھاکروں نے دلتوں کے گھروں پر حملہ کر دیا تھا۔

دلت ٹھاکر تنازعہ کے بعد سینکڑوں دلت نوجوانوں پر مقدمہ درج کیا گیا اور 50 زیادہ بھیم آرمی کارکنان کو جیل بھیج دیا گیا۔ چندر شیکھر پر آدھا درجن مقدمات درج کئے گئے اور ان پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت بھی کارروائی کی گئی، جس کی مدت میں ہر 3 مہینے میں توسیع کر دی جاتی تھی۔ گزشتہ شام ریاستی حکومت نے چندر شیکھر راون کو ان کے دو ساتھیوں کے ساتھ رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

چندر شیکھر کے ساتھ جن دو ساتھیوں کو رہا کیا گیا ہے ان کے نام شیو کمار جاٹو (50) اور سونو (26) ہیں اور دونوں ہی شبیر پور گاؤں کے رہنے والے ہیں۔

ریاستی حکومت نے راون کو جو احکامات جاری کئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ چندرشیکھر کی ماں کملیش دیوی کی درخواست پر این ایس اے کو قبل از وقت ہٹا لیا گیا ہے۔ چندر شیکھر پر این ایس اے کی مدت کا وقت یکم نومبر کو مکمل ہو رہا تھا، انہیں اس قانون کے تحت کارروائی کئے جانے کی وجہ سے 10 مہینے 13 دن کا اضافی وقت جیل میں گزارنا پڑا۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد چندر شیکھر راون نے کہا کہ وہ سماج کے لئے لگاتار جد و جہد کرتے رہیں گے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی ان کی بوا ہیں اور وہ ان کی مخالفت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں وہ خود چناؤ نہیں لڑیں گے لیکن بی جے پی کو ہرانے کے لئے کام کریں گے۔

چندر شیکھر کی رہائی کی خبر ملنے کے بعد سہارنپور جیل پر ہزاروں کی تعداد میں حامی جمع تھے۔ اس کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ نے پروانہ نہیں ملنے کی بات کہی۔ حالانکہ اچانک اعلی افسران جیل پہنچنے لگے جس سے یہ صاف ہو گیا کہ دیر رات کسی بھی وقت راون کو رہا کر دیا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اتر پردیش حکومت نے یہ فیصلہ دلتوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے مقصد سے لیا ہے لیکن یہ اسے الٹا پڑ سکتا ہے۔ بھیم آرمی کے شہر صدر پروین جاٹو کے مطابق چندرشیکھر اور دیگر ساتھی ابھی تک جیل میں حکومت کی ہی وجہ سے تھے اور چہار سو سے دباؤ پڑنے کے بعد حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی ہے۔

لگے میں پٹکا ڈلے آسمانی شرٹ پہنے چندرشیکھر نے جیل سے باہر آتے ہی باآواز بلند ہاتھ ہوا میں لہرا کر ’جے بھیم‘ کا ناعرہ لگایا اور اس کے بعد اپنی ماں کملیش دیوی کے پیر چھو کر آشیرواد لیا۔ پولس رات میں سخت حفاظت کے ساتھ انہیں چھٹمل پور واقع ان کی رہائش پر لے کر آئی۔ چندرشیکھر کی آزادی کے بعد دلت سیاست کے حواسلہ سے سرگرمی تیز ہونے کی امید ہے۔

سب سے زیادہ مقبول