امریکہ-طالبان معاہدے پر دستخط! 19 سالہ طویل جنگ ختم ہونے کی امید

ہندستان کے سفیر برائے قطر پی کمارن اور اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اس تاریخی موقع کا گواہ بننے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ پی کمارن کو حکومت قطر نے مدعو کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

دوحہ: امریکا کے اعلیٰ عہدیدار، طالبان کے مذاکرات کار اور مختلف ممالک کے مندوبین کی موجودگی میں آج 'امریکہ۔ طالبان معاہدے‘ پر دستخط کیے جارہے ہیں۔ امريکی وزير خارجہ مائیک پومپیو جہاں دستخط کی تقريب ميں شریک ہیں، وہیں وزير دفاع مارک ايسپر بھی سرکاری افغان نمائندوں کے ساتھ ايک پريس کانفرنس ميں حصہ لیں گے۔

ہندستان کے سفیر برائے قطر پی کمارن اور اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اس تاریخی موقع کا گواہ بننے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ پی کمارن کو حکومت قطر نے مدعو کیا ہے۔

یہ معاہدہ جس پر ہندستانی وقت کے مطابق شام سوا چھ بجے دستخط ہو نگے، بظاہر جہاں افغانستان میں زائد از اٹھارہ سالہ طویل جنگ کے خاتمےکا اعلان ہوگا وہیں اس سمجھوتے کے تعلق سے بباطن امکانات سے زائد اندیشے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس معاہدے میں طالبان کو جو رعایتیں دی جارہی ہیں، ان کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد افغانستان ميں متعین امريکی افواج کے انخلاء کی راہ کس طرح ہموار ہوتی ہے اور طالبان اور حکومت افغانستان کے مابين راست بات چیت کا آغاز کتنا مسعود ہوتا ہے!

اس معاہدے سے قبل یہاں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کاروں نے ایک سے زائد موقعوں پر ملاقاتیں کیں اور اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اگر یہ سلسلہ مطلق بے دم ہوتا تو مذاکرات کار بظاہر فیصلہ کن موڑ تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگست 2019 میں بھی فریقین معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن اگلے ہی مہینے ستمبر میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کو جنگجووں نے نشانہ بنایا جس نے سارا کھیل بگاڑ دیا اور صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات روک دیئے۔

چار ماہ بعد اگرچہ آج ایک تاریخی معاہدہ تکمیل کے حتمی مرحلے میں ہے لیکن حالات پر نظر رکھنے والوں کو اب بھی راستہ پوری طرح ہموار نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ ایک طرف طالبان کا ماضی کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے اور دوسری طرف امریکہ میں صدارتی انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں۔

افغانستان رخی عالمی اور علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے اس معاہدے میں دونوں طرف جو وِن وِن پوزیشن دکھائی جا رہی ہے اس کا تعلق افغانستان یا امریکہ کے عوام سے نہیں بلکہ طالبان کی ایک دیرینہ مانگ اور امریکی انتخابات میں اپنی جیت یقینی بنانے کی صدر ٹرمپ کی خواہش سے ہے۔

طالبان کا دیرینہ مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو ہٹایا جائے اور امریکہ میں بھی جنگی جنون سے عاجز عوام امریکی فوجیوں کی جلد ملک واپسی کے خواہاں ہیں۔ ہر چند کہ طالبان اس معاہدے میں افغان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دیں گے۔ باوجودیکہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا نے اگر ذمہ داری کے محاذ پر کوئی خلا پیدا کیا تو حالات پورے خطے کے لئے بری طرح بے قابو ہو سکتے ہیں۔

next