امریکی صدر نے ہندوستان کو بتایا ’جہنم‘، کانگریس نے پی ایم مودی سے کہا ’ٹرمپ سے بات کیجیے‘

کانگریس نے کہا کہ امریکی صدر کے ذریعہ ہندوستان کو ’جہنم‘ بتانا ہتک آمیز ہے۔ اس بات کے لیے پی ایم مودی کو امریکی صدر سے بات کرنی چاہیے اور سخت اعتراض درج کرانا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کا ایک خط دوبارہ پوسٹ کیا ہے، جس میں ہندوستان اور کچھ دیگر ممالک کو ’جہنم‘ ٹھہرایا گیا ہے۔ اس خط میں امریکہ کی پیدائشی شہریت قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے نسل پرستانہ تبصرے کیے گئے ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکی صدر سے بات کریں۔

کانگریس نے یہ مطالبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ہندوستان کو ’جہنم‘ بتایا ہے۔ یہ بات بے حد ہتک آمیز ہے اور ہندوستان مخالف ہے۔ ہر ہندوستانی کو اس سے تکلیف ہوئی ہے۔ اس بات کے لیے پی ایم مودی کو امریکی صدر سے بات کرنی چاہیے اور سخت اعتراض درج کرانا چاہیے۔‘‘ کانگریس نے آگے لکھا ہے ’’حالانکہ جس حساب کا مودی کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے، ایسے میں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ٹرمپ کے آگے مودی کچھ بول پائیں گے۔‘‘


کانگریس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ لگاتار ہندوستان کے لیے ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں اور مودی خاموشی سنتے رہتے ہیں، یہ مناسب نہیں ہے۔ پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ ’’نریندر مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں اور اس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ چین اور کچھ دیگر ممالک کو بھی ’جہنم‘ نشان قرار دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سیویج کے جس طویل نوٹ کو امریکی صدر نے شیئر کیا ہے، اس میں امریکہ کی عدالت میں پیدائشی شہریت کو لے کر چل رہی بحث پر رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ انھوں نے غیر شہریوں کے بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کے التزام کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملہ پر عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ قومی ریفرینڈم ہونا چاہیے۔ خط میں سیویج نے دعویٰ کیا کہ دوسرے ممالک کے لوگ امریکہ آ کر نویں مہینے میں بچہ پیدا کرتے ہیں اور اس سے انھیں فوراً شہریت مل جاتی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’’یہاں پیدا ہونے والا بچہ فوراً امریکی شہری بن جاتا ہے، اور پھر وہ اپنی پوری فیملی کو چین، ہندوستان یا دنیا کے کسی ’ہیل ہول‘ سے یہاں لے آتے ہیں۔‘‘ خط میں ہندوستانی اور چینی مہاجروں سے متعلق قابل اعتراض زبان کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔


سیویج کے خط کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے اس بیان کے ایک دن بعد شیئر کیا ہے، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی ملک پیدائشی شہریت نہیں دیتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 3 درجن ممالک یہ سہولت دیتے ہیں، جن میں کناڈا، میکسیکو اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔