آر بی آئی کو بچانے کے لئے ارجت پٹیل نے گورنری چھوڑی

قیاس لگائے جا رہے تھے کہ آر بی آئی گورنر اسمبلی انتخابات کے بعد مستعفی ہو جائیں گے، انہوں نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا انتظار نہیں کیا بلکہ ایک دن قبل آ ربی آئی گونر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

قومی آوازبیورو

آر بی آئی کے گورنر ارجت پٹیل کے مستعفی ہونے کی خبر سے کوئی حیران نہیں ہوا ، کیونکہ سیاسی اور ملک کے اقتصادی حلقوں میں پہلے سے ہی امید کی جا رہی تھی ۔ ان کے استعفی کی خبر اس وقت سے زور پکڑ رہی تھی جب سے انہوں نے حکومت کو ریزرو بینک آف انڈیا کے ریزروڈ فند سے حکومت کو رقم دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ حکومت کی اس پالیسی کی مخالفت کر رہے تھے جس میں حکومت سیکشن 7کا استعمال کر نے کے لئے کہہ رہی تھی ۔ ارجت پٹیل کے استعفی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کے اوپر حکومت کا فیصلہ ماننے کا بہت زیادہ دباؤ تھا ۔ ارجت نے اپنے استعفے سے یہ بات صاف کر دی ہے کہ ان کے لئے آر بی آئی کو بچانہ اپنی گورنری سے زیادہ اہم ہے۔

ارجت پٹیل کے استعفی کے بعد حکومت پر ہر جانب سے حملے ہو رہے ہیں ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’آ ر بی آئی گورنر نے استعفی دے دیا کیونکہ وہ ادارہ کو مودی کے حملو ں سے بچانا چاہتے تھے ‘‘۔

ارجت پٹیل کو 4ستمبر 2016 کو رگھو رام راجن کی جگہ آر بی آئی کا گورنر بنایا گیا تھا ۔ اس کے بعد سے ہی نوٹ بندی اور دیگر معاملوں پر ان کی تنقید ہوتی رہی ہے، لیکن جب سیکشن 7کی بات ہوئی تو انہوں نے اپنا موقف سخت کر لیا جس کے بعد ان کے اور حکومت کے درمیان تناؤ شروع ہو گیا۔ وہ آر بی آئی کے کام کاج میں حکومت کی مداخلت کے سخت خلاف تھے ۔ ارجت پٹیل نے کہا ہے کہ’’ میں نے استعفی ذاتی وجوہات کی بنا پر دیا ہے ۔ یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں نے آر بی آئی کے کئی عہدوں پر کام کیا ہے ‘‘۔

ارجت پٹیل کے مستعفی ہونے کے اوقات بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ کل سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے والا ہے ۔ آج دہلی میں حزب اختلاف کی پارٹیوں کا بی جے پی مخالف اتحاد بنانے کے لئے ایک اجلاس ہوا اور کل پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے والے ہیں جہاں ایگزٹ پول کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی کی حالت اچھی نہیں ہے ، جب ہم ارجت پٹیل کے استعفی کی ٹائمنگ کی بات کریں گے تو ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اس بات کا سب کو علم تھا کہ برطانوی عدالت آ ج وجے مالیہ کو سی بی آئی کے حوالہ کر دے گا یعنی ارجت پٹیل کی اس خبر نے وجے مالیہ کی حوالگی کی خبر کو چھوٹا کر دیا ہے۔

Published: 10 Dec 2018, 2:34 PM