دین کی روح کو سمجھنے والے علماء کی سخت ضرورت: مولانا رابع حسنی ندوی

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے علماء کی سخت ضرورت ہے جو نہ صرف دین کی روح کو سمجھتے ہوں بلکہ اسلام کی صحیح ترجمانی بھی کرسکیں۔

رابع حسنی ندوی
رابع حسنی ندوی
user

یو این آئی

جے پور: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے علماء کی سخت ضرورت ہے جو نہ صرف دین کی روح کو سمجھتے ہوں بلکہ اسلام کی صحیح ترجمانی بھی کرسکیں۔ مولانا رابع حسنی جامعہ ہدایہ جے پور میں آن لائن ایک سالہ افتا کورس کے افتتاح کی آن لائن تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ اس موقع پر جامعہ ہدایہ جے پور کے سربراہ مولانا فضل ا لرحیم مجددی نے کہا کہ مدارس کے طلبہ کی عصری ہم آہنگی کے لئے جامعہ ہدایہ میں نئے نئے کورسز شروع کئے جائیں گے۔

مولانا رابع حسنی ندوی نے جامعہ ہدایہ کے تعلیمی نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ نے ابتداء سے ہی عصری اور دینی تعلیم سے آہنگ نصاب تعلیم کے ساتھ قدم بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے بانی مولانا عبدالرحیم مجددی ایسی شخصیتوں میں سے تھے جنہوں نے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے اس سمت قدم اٹھایا تھا۔ مولانا رابع نے کہا کہ افتا سے مسلم دنیا کی ترجمانی ہوتی ہے اور شعبہ افتا سے ایسے مفتیان کرام پیدا کئے جائیں جو نہ صرف دینی شعور اور دین کی روح کو سمجھتے ہوں بلکہ دین سے کٹی ہوئی امت کو جوڑ سکیں اور امت کی صحیح رہنمائی کرسکیں۔


جامعہ ہدایہ جے پور کے سربراہ، عبدالرحیم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیرمین اور مشہور عالم دین مولانا فضل الرحیم مجدددی نے آن لائن افتا کورس کی تقریب میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہدایہ کی تاریخ میں انمول اور یادگار دن ہے کہ آج تخصص فی الفقہ والافتاء کا آغاز ہورہا ہے۔انہوں نے افتا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فتوی اور قضا میں بنیادی فرق یہی ہے کہ مفتی کسی مسئلہ سے متعلق شرعی حکم بتلاتاہے جب کہ قاضی واقعہ کی تحقیق کرکے اس پر حکم شرعی منطبق کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فتوی ’اخبار‘ہے اور قضا ’الزام‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ کو عصری ہم آہنگی کے لئے جامعہ ہدایہ میں نئے نئے کورسز شروع کئے جائیں گے۔ ان میں جلد ہی شروع کیا جانے والا کاؤنٹ اینڈ منیجمنٹ کا کورس شامل ہے۔اس سے طلبہ نہ صرف دین سے جڑے رہیں گے بلکہ روزگار بھی حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عام طور پر اس تعلیم سے رشتہ ختم ہوجاتا ہے جس میں روزگار نہ ہوں اور اس کارشتہ اقتصادیات سے نہ ہو اور ہم اس سلسلے کئی سطح پر کام کررہے ہیں اورایک طرف جہاں متعدد اسکول کھولے ہیں وہیں سول سروس کی تیاری کے لئے کریسنٹ آئی اے ایس اکیڈمی 2002سے کام کر رہی ہے جس سے اب تک 170 سول سروس کے افسران تیار ہوچکے ہیں۔


انہوں نے کہاکہ مولانا شاہ ہدایت نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ برطانوی حکومت کی پالیسی کے منفی اثرات مسلمانوں پر مرتب ہوں گے اور انگریزی زبان اپنائے جانے کی وجہ سے ہزاروں اردو داں حضرات کے لئے روزگار کے دروازے بند کردئے گئے تھے۔ اس لئے انہوں نے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے فکر مند رہتے تھے۔انہوں نے کہاکہ اسی سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے مولانا عبدالرحیم مجددی نے جامعہ ہدایہ قائم کیا تھا اور دو حصوں میں بٹ چکی تعلیم کو دینی اور دنیاوی سے ہم آہنگ کرکے نصاب تعلیم تیار کیا۔

مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ ہمارا منصوبہ ہے کہ ہندوستان کے ہرضلع میں اسکول قائم کیا جائے اور خاص طور پر جے پور میں ہر جگہ اسکول کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ کوئی مسلم بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہو ں نے کہاکہ عبدالرحیم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذریعہ کریسنٹ آئی اے ایس اکیڈمی کے علاوہ پانچ اسکول، مسلمانوں کو فلاحی اسکیموں کا فائدہ پہنچانے کے لئے ویلفیئر اسکیم، ایف ایف سی ایل وغیرہ کے توسط سے قوم کی خدمت کی جارہی ہے۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ تین اہم شعبے افتا، قضا اور احتساب اہم ہیں اور مسلم ملکوں میں مفتی سرکاری عہدہ تھا اور مسلمانوں کے لئے یہ شعبہ بہت اہم ہے کیوں کہ اس سے دین و دنیا کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پہلے باضابطہ افتا کا شعبہ نہیں تھا کیوں کہ اس وقت علماء میں دین کی سمجھ اور علمی گہرائی تھی لیکن یہ علمی انحطاط کا دورہے جس کی وجہ سے شعبہ افتا اور فتاوی کے لئے تربیت کی ضرورت پڑی۔

ندوۃالعلماء لکھنوکے استاذ حدیث و فقہ مولانا عتیق بستوی نے کہاکہ شعبہ افتا کے طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف مفتی کے لقب کے لئے افتا کے کورس میں شامل نہ ہوں بلکہ خلوص اور دینی رہنمائی کے لئے کورس کریں۔

جامعہ ہدایہ کے استاذ مفتی شہر مولانا ذاکر نعمانی کاشفی نے افتا کے طلبہ کو سبق پڑھاکرآن لائن افتا کورس کا افتتاح کیا۔واضح رہے کہ کورونا کے حالات صحیح ہونے پر اس کورس کو آف لائن بھی کردیا جائے گا۔

اس پروگرام سے خلیجی ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان اور مغربی ممالک میں امریکہ، برطانیہ، پرتگال، کینیڈا ودیگر کے علاوہ ہندوستان کے مختلف حصوں سے شامل ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔