یوریا کی خرید میں 50 فیصد اضافہ، ال نینو اور مغربی ایشیائی بحران کے سبب کھاد پر بڑھا دباؤ، ریاستوں کو ہدایت جاری

یوریا کی ریکارڈ اورغیر معمولی خرید کو دیکھتے ہوئے مرکز نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ کھاد کی بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ال نینو اور اس سال معمول سے کم بارش کے خدشات اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت نے خریف سیزن کے دوران ریاستوں کو چوکس رہنے کے لیے کہا ہے۔ ملک میں روزانہ تقریباً 80 ہزار میٹرک ٹن یوریا کی خرید ہو رہی ہے جو کہ معمول سے تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور مصنوعی قلت کے اندیشہ پر سخت نگرانی رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

دہلی میں پوسا واقع نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد قومی خریف کانفرنس میں پہلی بار 22 ریاستوں کے وزیر زراعت، مرکزی حکومت کے نمائندے اور زرعی سائنسدان ایک اسٹیج پر جمع ہوئے۔ اس کانفرنس میں زرعی پیداوار، کھاد کی دستیابی، پانی کے انتظام اور کاشتکاروں کو موسم سے متعلق چیلنجوں سے بچانے کے اقدامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت کی تشویش صرف کاشتکاری کے رواں موسم تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اور سماجی اثرات ہے۔


یوریا کی ریکارڈ اورغیر معمولی خرید کو دیکھتے ہوئے مرکز نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ کھاد کی بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ حقیقی کسانوں تک کھاد بروقت اور مناسب قیمت میں کھاد پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستوں کو کسی بھی ہنگامی حالت کا سامنا کرنے کے لیے ابھی سے ضلع سطح تک ایک مضبوط اور فعال نگرانی نظام اور کنٹرول روم تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بوائی کے دوران پانی کی قلت کی وجہ سے کھیتوں کو بنجر ہونے سے بچانے کے لیے ایک جامع بیک اپ پلان تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت کم پانی کی ضرورت والے، اعلیٰ معیار والے اور بحران کے وقت کام کرنے والے متبادل فصلوں کے تقریباً 1.74 لاکھ میٹرک ٹن بیجوں کا خصوصی ذخیرہ کیا گیا ہے۔ اس وقت ملک میں بیج کی کل دستیابی تقریباً 1.90 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔