اردو صحافت آج بھی اپنے محور پر قائم ہے: معصوم مراد آبادی

ڈی یو جے صدر ایس کے پانڈے نے کہا کہ معصوم مرادآبادی نے اردوصحافت کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور اب وہ اپنی تحقیق سے جنگ آزادی میں اردو صحافیوں کی قربانیوں کو منظر عام پر لا رہے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: اردو صحافت ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے اور اس نے ملک کی آزادی کے لیے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یہاں سینئر صحافی معصوم مرادآبادی نے ایک تہنیتی تقریب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردوصحافت اور جنگ آزادی 1857 کے موضوع پر حال ہی میں ان کی ایک ہندی کتاب منظر عام پر آئی ہے، جس میں اردو صحافیوں کی قربانیوں کی ولولہ انگیز داستان ہے۔ دہلی یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل الائنس آف جرنلسٹس کی طرف سے منعقدہ اس تقریب میں معصوم مرادآبادی نے کہا کہ اب سے دوسو سال پہلے اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ پنڈت ہری ہردت اور پنڈت سدا سکھ نے کلکتہ سے شائع کیا تھا۔ آج دو سوسال بعد جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ شمالی ہند کے دو بڑے اخباروں کے مالکان کے نام سنجے گپتا اور سبرتو رائے ہیں تو ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ اردو صحافت آج بھی اپنے محور پر قائم ہے۔

اس موقع پر ڈی یو جے کے صدر ایس کے پانڈے نے معصوم مرادآبادی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یونین کے ساتھ ان کی چالیس سالہ سرگرم وابستگی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ معصوم مرادآبادی نے اردوصحافت کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور اب وہ اپنی تحقیق وجستجو سے جنگ آزادی میں اردو صحافیوں کی ناقابل فراموش قربانیوں کو منظر عام پر لا رہے ہیں۔ ان کی تازہ ہندی کتاب اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس میں انھوں نے پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر پر خصوصی مواد پیش کیا ہے۔ ایس کے پانڈے نے کہا کہ معصوم زمین سے جڑے ہوئے ایسے صحافی ہیں، جنھوں نے بہت نیچے سے اپنا سفر شروع کرکے اردو صحافیوں کی صف اوّل میں جگہ بنالی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے انھوں نے بڑی محنت، جدوجہد اور دیانت داری سے کام لیا ہے۔


ڈی یو جے کی خزانچی مرنال ولاری نے اس موقع پر معصوم مرادآبادی کی کتاب پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہانہوں نے ہندی قارئین کو اردو صحافت کے ایک ایسے بلند کردار سے روبرو کیا ہے جس سے اب تک ہندی والے نا آشنا تھے۔ امید ہے کہ ہندی جگت اس کتاب سے بہت فائدہ اٹھائے گا۔ ریڈیو جرمنی کی اردونشریات کے نمائندے جاوید اختر نے اس موقع پر کہا کہ معصوم مرادآبادی اپنے تحقیقی رویوں، سخت محنت اور پیشہ وارانہ دیانت داری کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان ہی خوبیوں نے انھیں اردوصحافت میں معتبر شناخت عطا کی ہے۔ اس موقع پر سینئر صحافی محمداحمد کاظمی نے کہا کہ معصوم مرادآبادی کی یہ کتاب جنگ آزادی میں مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کی ایک اہم دستاویز ہے اور ڈی یو جے نے ان کے اعزاز میں یہ محفل منعقد کرکے بڑا کام کیا ہے۔

اس موقع پر یونین کے صدر ایس کے پانڈے نے ’نئی دنیا‘ کے ایڈیٹر شاہد صدیقی اور ’انقلاب‘(نارتھ) کے ایڈیٹر ایم ودود ساجد کا ایک پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔ تہنیتی تقریب میں ہندی، انگریزی اور اردو کے صحافی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ آخر میں یونین کی جنرل سیکریٹری سجاتا مدھوک نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر صاحب اعزاز کو شال اور گلدستہ پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔