مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی پر ہنگامہ، ہندو تنظیمیں پہنچیں تھانہ، تفتیش شروع

ہندو تنظیم کے ذریعہ لڑکی کے نابالغ ہونے کی بات کہے جانے کے بعد پولس نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ جانچ میں لڑکی کے نابالغ ہونے کا کوئی ثبوت فی الحال نہیں ملا ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش واقع میرٹھ کے کنکیرکھیڑا تھانہ علاقہ میں مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کے درمیان ہوئی شادی کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب کچھ ہندو تنظیموں کو پتہ چلا کہ مسلم لڑکے نے ہندو لڑکی سے شادی کر لی ہے، تو وہ اس کی شکایت لے کر تھانہ پہنچ گئے اور لڑکے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم نوجوان نے نابالغ ہندو لڑکی کو بہلا پھسلا کر شادی کی ہے، حالانکہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ثبوت حاصل نہیں ہو سکا ہے کہ لڑکی واقعی نابالغ تھی یا ہندو تنظیمیں اس تعلق سے جھوٹ بول رہی ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر دو الگ الگ فرقوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہوئی اس شادی کے تعلق سے خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی یہ خبر علاقے میں پھیلی اور ہندو تنظیم شکایت لے کر پولس کے پاس پہنچی۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی نے انگیٹھی میں آگ جلا کر اسے ’ہوَن کنڈ‘ بنایا اور چاروں طرف پھیرے لگا کر شادی کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو کنکیرکھیڑا تھانہ علاقہ میں ہی بنایا گیا ہے، گوکہ شادی اسی تھانہ علاقہ میں ہوئی۔


یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بھلے ہی مسلم لڑکے نے ہندو لڑکی سے شادی کی ہے، لیکن ویڈیو کے مطابق شادی پوری طرح سے ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی ہے۔ ہندو تنظیم کے ذریعہ لڑکی کے نابالغ ہونے کی بات کہے جانے کے بعد پولس نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ جانچ میں لڑکی کے نابالغ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ پولس نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملہ میں کوئی تحریر نہیں دی گئی ہے، لیکن ویڈیو سامنے آنے کے بعد جانچ کی جا رہی ہے۔

اس درمیان یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شادی کے بعد سے لڑکی کے اہل خانہ اور شادی کرنے والا جوڑا بھی غائب ہے۔ ایسا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شادی شدہ جوڑا ہنگامہ برپا ہونے کے بعد کسی خوف سے دوسری جگہ چلا گیا ہے۔ لڑکی کے اہل خانہ کے بارے میں بھی یہی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعہ کے ڈر سے وہ لوگ سامنے نہیں آ رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔