بنگال کے چیف سکریٹری کو دہلی طلب کیے جانے پر ہنگامہ، مودی حکومت پر اٹھ رہی انگلیاں

بائیں بازو کے رہنما دیپانکر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے راتوں رات چیف سیکریٹری کو دہلی طلب انتقامی کارروائی کے تحت کیا ہے۔ مودی حکومت جارحانہ سامراجی طاقت کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔

الاپن بندو پادھیائے، تصویر آئی اے این ایس
الاپن بندو پادھیائے، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: راتوں رات چیف سیکریٹری کو دہلی طلب کیے جانے پر ممتا بنرجی کے مخالفین سی پی ایم اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے سینئر وکلا نے مرکز کی اس کارروائی کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو آئی اے ایس افسران کو طلب کرنے کا حق ہے، مگر جس طریقہ سے اور جس وقت طلب کیا جا رہا ہے وہ انتقامی کارروائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

سی پی ایم کے سینئر لیڈرو راجیہ سبھا رکن اور کلکتہ ہائی کورٹ کے مشہور وکیل بکاش رنجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ چیف سکریٹری کو طلب کرنے کے ضوابط موجود ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ وقتی نہیں ہونا چاہیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب چیف سکریٹری ریٹائرڈ ہونے والے تھے اور حال ہی میں مرکز نے انہیں 3 ماہ کی توسیع دی ہے۔ ایسے میں توسیع کی مدت کے دوران انہیں دہلی طلب کیا جانا سمجھ سے بالاترہے۔


بنگال کانگریس کے لیڈر و سینئر وکیل ارونوا گھوش کے مطابق چیف سکریٹری مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ مرکز نے ان تمام افسروں کو ریاست میں کام کرنے کی اجازت دی۔ تاہم، اس معاملے میں ریاستی عہدیدار کام کر رہے ہیں، انہیں فوائد اور نقصانات کو دیکھنا ہوگا۔ کووڈ کے نازک ماحول کے ساتھ ہی طوفان کے باعث صورتحال مزید نازک ہوگئی ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ مغربی بنگال میں شکست کھانے کے بعد مرکز میں حکمراں جماعت اس طرح کے مذموم کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم آفس میں ایک سکریٹری وزیر اعظم کی ہدایات کی نافرمانی نہیں کرسکتے ہیں۔ چیف سکریٹری بھی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ وزیر اعلی کی ہدایت پر کام کرتے ہیں۔

بائیں بازو کے رہنما دیپانکر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے راتوں رات چیف سیکریٹری کو انتقامی کارروائی کے تحت دہلی طلب کیا ہے۔ مودی حکومت جارحانہ سامراجی طاقت کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔ دیپانکر نے مرکزی حکومت کے خلاف ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’طوفان سے تباہ حال ریاست کے چیف سکریٹری کو دہلی طلب کرنا ملک کے وفاقی نظام کی تاریخ میں انوکھا واقعہ ہے۔ بنگال کے عوام کو سزا دینے کے لئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔ جس بنگال کے عوام نے مودی کی خواہشوں کے مطابق بنگال پر قبضہ نہیں ہونے دیا۔


الاپن بندو پادھیائے ممتا بنرجی کے قابل اعتماد افسران میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے طویل انتظامی ذمہ داری کے ذریعہ بنگال کی خدمت کی ہے گزشتہ سال اکتوبر میں ہی انہوں نے چیف سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا ہے۔ اس سے قبل وہ داخلہ سیکریٹری تھے۔ الاپن اسی مہینے ریٹائرڈ ہونے والے تھے، ممتا بنرجی نے 13 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے ایک خط لکھا تھا۔ خط میں انہوں نے اپیل کی تھی کہ ریاست کو کورونا وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے الاپن بندو پادھیائے جیسے قابل افسران کی ضرورت ہے، گزشتہ ہفتے، وزیر اعلی کی درخواست پر مرکز نے توسیع کی منظوری دے دی۔

مگر کل وزیرا عظم مودی اور ممتا بنرجی کی ملاقات کو لے کر جاری تنازع کے بعد دیررات مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی کابینہ کمیٹی کے ذریعہ 1986 بیچ کے آئی اے ایس افسر الاپن بندو پادھیائے کو حکومت ہند میں شامل ہونے کے لئے بلایا گیا ہے۔ انہیں تمام تر ذمہ داریوں سے فوراً فارغ کر دیا جائے۔ خط میں ممتا کے قریب بیوروکریٹ کو 31 مئی کی صبح 10 بجے نئی دہلی کے نارتھ بلاک میں عملے اور تربیت کے شعبے میں شامل ہونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔