اتر پردیش اسمبلی میں بجلی پر ہنگامہ آرائی، اسمارٹ میٹر اور نجکاری پر حکومت و اپوزیشن آمنے سامنے
اتر پردیش اسمبلی میں بجلی کی فراہمی، بڑھتی شرحوں، اسمارٹ میٹر اور نجکاری کے معاملے پر شدید بحث ہوئی۔ سماجوادی پارٹی نے حکومت کو گھیر ا جبکہ توانائی کے وزیر نے تمام الزامات مسترد کر دئے

لکھنؤ: اتر پردیش اسمبلی میں جمعرات کو بجلی کی فراہمی، نجکاری اور اسمارٹ میٹر کے معاملے پر زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ وقفہ صفر کے دوران سماجوادی پارٹی کے اراکین نے ریاست میں مناسب بجلی سپلائی نہ ہونے، شرحوں میں اضافے اور اسمارٹ میٹر کے نام پر صارفین کو ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔
سماجوادی پارٹی کے رکن رام سنگھ پٹیل نے کہا کہ اس وقت جاری بجلی کٹوتی سے اندیشہ ہے کہ شدید گرمی کے دوران حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بجلی پیداوار اور سپلائی کے سلسلے میں حکومت کے پاس کوئی ٹھوس تیاری نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کی ہیلپ لائن 1912 پر بھی شکایات کا مؤثر ازالہ نہیں ہو پا رہا۔
فہیم عرفان نے اسمارٹ میٹر کے نام پر صارفین کے استحصال اور کلو واٹ بڑھانے میں مبینہ من مانی کا معاملہ اٹھایا۔ پنکج پٹیل نے کہا کہ بڑھتی ہوئی شرحوں سے عوام پریشان ہیں اور حکومت عوامی خدمت کے بجائے محاصل میں اضافہ کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے بجلی کو عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی سہولت قرار دیتے ہوئے اسے سستا اور آسانی سے دستیاب بنانے کا مطالبہ کیا۔
جواب میں توانائی کے وزیر اے کے شرما نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں اب بجلی کوئی مسئلہ نہیں رہا اور ہر صارف کو بلا تعطل اور مسلسل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ریاست آج بجلی پیداوار، تقسیم اور سپلائی کے معاملے میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو بجلی کی شرحیں دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کم ہیں اور کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرنے والی اتر پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے۔
نجکاری کے سوال پر وزیر نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور آئندہ جو بھی قدم اٹھایا جائے گا وہ ریاستی مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سن 2006 میں اُس وقت کی سماجوادی پارٹی حکومت نے نجی شعبے کو پاور پلانٹ لگانے کی دعوت دی تھی۔
قبل ازیں سوالیہ گھنٹے کے دوران زرعی امور پر حکومت کے جواب سے غیر مطمئن سماجوادی پارٹی کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر زراعت سورج پرتاپ شاہی نے کہا کہ ریاست میں کسانوں کو کسی قسم کی دقت نہیں ہے، کھاد وافر مقدار میں دستیاب ہے اور پردھان منتری کسان سمان ندھی کا فائدہ کسانوں کو مل رہا ہے۔
اسمبلی کے دوران ڈاکٹر راگنی کے سوال پر وزیر دنیش پرتاپ سنگھ جواب دے رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے محکمے کے کاموں کے ساتھ اسمبلی صدر ستییش مہانا کے حلقے میں کرائے گئے ترقیاتی کاموں کا بھی ذکر کیا، جس پر اسمبلی صدر نے انہیں ہدایت دی کہ وہ صرف اپنے محکمے تک محدود رہیں۔ ایوان میں بجٹ پیش کیے جانے کے ساتھ ہی بجلی اور کسانوں کے مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔