یو پی آئی تنازعہ: مرچنٹ فیس پر کانگریس کا اعتراض، گورو گوگوئی نے کہا- ’فنانس کمیٹی میں نہیں آئی کوئی تجویز‘
کانگریس نے یو پی آئی پر مرچنٹ فیس کے معاملے میں حکومت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ گورو گوگوئی نے کہا کہ فنانس کمیٹی کے سامنے کوئی مخصوص تجویز نہیں آئی، جبکہ منیش تیواری اور جے رام رمیش نے بھی سوال اٹھائے

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے یو پی آئی ادائیگیوں پر مرچنٹ فیس عائد کیے جانے کی تجویز کے سلسلے میں حکومت کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے اس سلسلے میں کوئی مخصوص تجویز پیش نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بات کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش کی 6 اگست کی ایکس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کہی۔
گورو گوگوئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مودی حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ یو پی آئی ٹیکس تجویز پر کوئی بحث نہیں کی۔ ان کے مطابق محکمہ خزانہ کے نمائندوں نے جب فنانس کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی تو ان کے پاس یو پی آئی ٹیکس سے متعلق کوئی مخصوص تجویز موجود نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاسوں میں مرچنٹ فیس کی ضرورت پر سوالات ضرور اٹھائے گئے، لیکن اس وقت حکومت کے نمائندوں کے پاس ان سوالات کے کوئی مخصوص یا اطمینان بخش جواب نہیں تھے۔ گوگوئی نے مزید کہا کہ حالیہ یو پی آئی ٹیکس پالیسیوں سے ہندوستان کے چھوٹے تاجروں، خوانچہ فروشوں اور کاروباری افراد کو نقصان پہنچے گا، جبکہ بڑی امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے یو پی آئی ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
گوگوئی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ جے رام رمیش کی 6 اگست کی پوسٹ بھی شیئر کی، جس میں رمیش نے ’ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز (ترمیمی) بل، 2026‘ پر اعتراض کیا تھا۔ رمیش نے کہا تھا کہ بل کے ذریعے یو پی آئی لین دین کو مفت رکھنے والی قانونی ضمانت ختم کی جا رہی ہے، جس سے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ، یعنی ایم ڈی آر، عائد کرنے کی راہ کھل سکتی ہے اور مستقبل میں اس کا دائرہ تمام ادائیگیوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
گورو گوگوئی کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے بھی حکومت کے دعوے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کی کارروائیاں مراعات یافتہ اور خفیہ نوعیت کی ہوتی ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا افسوس ناک ہے۔
منیش تیواری نے کہا کہ 15 اکتوبر 2026 سے یو پی آئی لین دین پر لاگو کیے جانے والے حالیہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ سے متعلق کوئی مخصوص تجویز کمیٹی کے سامنے نہیں لائی گئی تھی۔ ان کے مطابق فیس کی شرح، رقم، زیادہ سے زیادہ حد اور استثنیٰ کی سطح سمیت کسی بھی تفصیل پر کمیٹی کے سامنے کوئی مخصوص تجویز پیش نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کے اصول اور اس کی ضرورت و افادیت پر بھی کمیٹی کے مختلف اجلاسوں کے دوران ارکان نے سوالات اٹھائے تھے۔ تیواری نے حکومت کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا کہ کمیٹی کے ’کچھ ارکان‘ نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔ ان کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کی خفیہ کارروائی کو اس طرح پیش کرنا غلط اور گمراہ کن تشریح ہے۔
دوسری جانب جے رام رمیش نے گورو گوگوئی کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے آج حکومت پر مزید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں یو پی آئی سے متعلق فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی شدید مخالفت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ رمیش نے کہاا کہ یو پی آئی سے متعلق حالیہ فیصلہ امریکی کمپنیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اٹھنے کے بعد توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یو پی آئی ادائیگیوں پر مرچنٹ فیس کے معاملے نے اس وقت سیاسی بحث کی شکل اختیار کی جب حکومت کی جانب سے مخصوص مرچنٹ لین دین پر فیس عائد کیے جانے کی بات سامنے آئی۔ کانگریس اس تجویز کو یو پی آئی ٹیکس قرار دے کر اس کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ صارفین پر براہ راست عائد کیا جانے والا ٹیکس نہیں ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
