پٹنہ: کارکنان سمیت کشواہا نے دی گرفتاری، کارروائی کی یقین دہانی دیکر کیا گیا رہا

آر ایل ایس پی کے 250 کارکنان کے ساتھ آج دارالحکومت پٹنہ کے کوتوالی تھانے میں گرفتاری دینے پہنچے پارٹی کے قومی صدر اپندر کشواہا کو تحقیق میں تعاون دینے کی یقین دہانی کے بعد آزاد کر دیا گیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

پٹنہ: راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی) کے 250 کارکنان کے ساتھ آج دارالحکومت پٹنہ کے کوتوالی تھانے میں گرفتاری دینے پہنچے پارٹی کے قومی صدر اپندر کشواہا کو تحقیق میں تعاون دینے کی یقین دہانی کے بعد آزاد کر دیا گیا ہے۔

پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ( نظم ونسق )ڈاکٹر راکیش کمارنے یہاں بتایاسی آر پی سی کی دفعہ۔41(1) کے تحت سا ت سال سے کم سزا کے معاملے میں نوٹس تعمیل کرواکر چھوڑے جانے کے سپریم کورٹ کے جاری رہنما اصول کی بنیاد پر کشواہا اور ان کے ساتھ گرفتاری دینے پہنچے 250 کارکنان کو رہاکر دیا گیا۔

ڈاکٹر کمار نے کہاکہ اس سال 2 فروری کو آر ایل ایس پی کے جن آکروش مارچ کے دورا ن کشواہا کے ساتھ ہی 250لوگوں کے خلاف کوتوالی تھانے میں معاملہ درج کیا گیا تھا۔ کشواہا نے یقین دلایاہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات میں تعاون کریں گے ۔ اسی بنیاد پر انہیں اور ان کے ساتھ آئے 250 کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اس کے بعد سابق مرکزی وزیر کشواہانے کہاکہ 2 فروری 2019 کو تعلیم میں اصلاحات کے سلسلے میں پارٹی کی جانب سے مارچ نکالا گیا تھا۔ پارٹی تعلیم میں اصلاحات کے سلسلے میں مسلسل پروگرام چلار ہی تھی اور اس کے تحت 25نکاتی مطالبات سے متعلق میمورنڈم گورنرکوپیش کرنا تھا لیکن دار الحکومت پٹنہ کے ڈاک بنگلہ چوراہے پر پولیس کے ساتھ ہی سادے لباس میں موجود کچھ نامعلوم افراد نے انہیں اور پارٹی کارکنان کی پٹائی شروع کر دی جس میں وہ اور ان کے ساتھ کئی کارکنان سنگین طور سے زخمی ہو گئے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

کشواہا نے کہاکہ پولیس کی پٹائی کے بعد ان پر اور پارٹی کے 250حامیوں کے خلاف کوتوالی تھانے میں معاملہ درج کیا گیا ۔یہ سب حکومت کے اشارے پر ہی کیا گیا تھا ۔ اگر کاروائی کرنے کی منشا تھی تو ان کے اورکارکنان کے خلاف کیوں نہیں کاروائی کی گئی۔ صرف پریشان کرنے کی نیت سے ایسی سازش رچی گئی۔ آج بھی تھانے میں ان سے دو تین سوالات کئے گئے اور کہا گیا کہ کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد انہیں اور کارکنان کو آزاد کر دیا گیا۔

آر ایل ایس پی صدر نے کہاکہ وہ واقعہ کے بعد سے ہی کہتے رہے ہیں کہ اس معاملے کی پٹنہ ہائی کورٹ کے موجودہ جج کی دیکھ ریکھ میں جانچ کرائی جانی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح ہو سکے۔