عصمت دری کے مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کی اسمبلی رکنیت منسوخ

اسمبلی سکریٹریٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق کلدیپ سنگھ سینگر کو 20 دسمبر 2019 سے یوپی اسمبلی کا رکن نہیں سمجھا جائے گا، اس کے ساتھ ہی بانگر مئو اسمبلی سیٹ 20 دسمبر سے خالی ہو گئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اترپردیش کے زیر بحث اناؤ عصمت دری معاملہ میں سزا یافتہ بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کی اسمبلی رکنیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ کلدیپ سنگھ سینگر ضلع اناؤ کے بانگر مئو اسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی تھا اور اسے عصمت دری کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں پرنسپل سکریٹری اسمبلی پردیپ کمار دوبے نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

اترپردیش اسمبلی سکریٹریٹ نے اس کے لئے نوٹس جاری کیا ہے۔ اسمبلی سکریٹری پردیپ کمار دوبے نے گذشتہ 20 فروری کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سینگر کی رکنیت اسی دن ختم کردی گئی تھی جس دن اسے سزا سنائی گئی تھی۔ سینگر کو 20 دسمبر 2019 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لہذا اس کی رکنیت اسی دن سے ختم مانی جائے گی اور اب یہ سیٹ خالی ہوگئی ہے۔

کلدیپ سنگھ سینگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اناؤ بانگر مئو اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی تھا۔ گذشتہ دنوں کافی فضیحت ہونے کے بعد بی جے پی نے سینگر کو پارٹی سے برخواست کیا تھا۔ اب سکریٹریٹ کی جانب سے اس سیٹ کو خالی قرار دیئے جانے کے بعد یہاں پر ضمنی الیکشن ہوں گے۔ کلدیپ سنگھ سینگر کو عدالت کی جانب سے اناؤ کی ایک نابالغ کا اغوا اور عصمت دری کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے 2013 کو اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ یا قانون ساز کونسل کا ممبر کسی جرم میں قصوروار پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اسے کم از کم دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا سنائی جاتی ہے تو اسے فوراً نااہل قرار دیا جائے گا، یعنی وہ عوامی نمائندہ نہیں رہے گا۔