یوپی: ہجومی تشدد کے متاثرین کو عبوری معاوضہ فراہم کرنے کا فیصلہ

سدھارتھ ناتھ سنگھ نے میڈیا اہلکار کو کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہجومی تشدد اور تیزاب حملے کے متاثرین کو عبوری معاوضہ فراہم کئے جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں منگل کو ہوئی کابینہ میٹنگ میں حکومت نےہجومی تشدد اور دیگر جرائم بشمول تیزاب حملہ وغیرہ کے متاثرین کو عبوری معاوضہ دینے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ دھان خردیداری پالیسی کا اعلان کیاہے۔ ریاستی حکومت کے ترجمان و وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے میڈیا اہلکار کو کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہجومی تشدد اور تیزاب حملے کے متاثرین کو عبوری معاوضہ فراہم کئے جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا ہے۔

ناتھ نے بتایا کہ حکومت نے کرائم میں ابتدائی جانچ کے بعد ڈی ایم کی سفارش پر ملنے والی زیادہ سے زیادہ معاوضہ کی رقم کا 25 فیصدی رقم عبوری معاوضہ کے طور پر دینے کی اجازت دی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاوضہ کی ہر کرائم میں زمرہ بندی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنے دیگر فیصلے میں دھان خرید پالیسی کا اعلان کیا ہے۔حکومت نے اس بار 50 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدنے کا ہدف رکھا ہے۔ دھان خرید پالیسی کے تحت عام قسم کے دھان کی قیمت 1815 روئے فی کوئنٹل ہوگئی جبکہ گریڈ اے کی قیمت 1835 روپئے فی کوئنٹل ہوگی علاوہ ازیں کسان کو ٹرانسپورٹ اور صاف صفائی کی لاگت کے لئے 20 روپئے فی کوئنٹل دئے جائیں گے۔

سنگھ نے بتایا کہ لکھنؤ ڈویژن اور کچھ مغربی اضلاع میں دھان خریداری کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوگا جو کہ 31 جنوری تک جاری رہے گا۔جبکہ ریاست کے بقیہ اضلاع میں دھان خریداری کا آغاز یکم نومبر سے ہوگا اور 29 فروری 2020 تک جاری رہے گا۔

کسی بھی دلال کی مداخلت کو روکنے کے لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 100 کوئنٹل سے زیادہ دھان کی فروخت کرنے والے کسان کو اضافی ثبوت فراہم کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی کسان کا آدھار نمبر دئے جانے کے 72 گھنٹوں کے اندر دھان کی رقم ڈائرکٹ کسان کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کردی جائےگی۔