’ایودھیا‘ کو ’مکہ معظمہ‘ سے بھی عظیم الشان بنائیں گے، یوگی حکومت کا اعلان

اتر پردیش حکومت کے ایک ترجمان نے یہ جانکاری دی کہ ایودھیا پوری دنیا میں ویٹکن سٹی اور مکہ سے بھی اہم مذہبی شہر ہو جائے گا۔ اسے مذہبی اور سیاحتی دونوں نظریسے سجانے سنوارنے کا کام جلد شروع ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر تعمیر کرنے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ ایسی کوششیں ہو رہی ہیں کہ رام مندر تعمیر کے بعد ایودھیا ہندوؤں کے لیے عقیدت کا مرکز بنے اور پوری دنیا میں اس کی شہرت ہو۔ اس درمیان یوپی کی یوگی حکومت نے شری رام جنم بھومی ایودھیا سے متعلق ایک بڑا بیان دیا ہے۔ یوگی حکومت میں ترجمان اور صوبہ کے کابینہ وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے ایودھیا کو عیسائیوں کے مذہبی مقام ’ویٹکن سٹی‘ اور مسلمانوں کے لیے مذہبی طور پر انتہائی اہمیت کے حامل ’مکہ معظمہ‘ سے بھی عظیم الشان بنانے اور وسعت دیے جانے کی بات کہی ہے۔

سدھارتھ ناتھ سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ان کی حکومت جلد ہی ایودھیا کا رینوویشن یعنی از سر نو تعمیر کی تیاری شروع کرنے جا رہی ہے۔ تیاری مکمل ہونے کے بعد ایودھیا کو سجانے سنوارنے کا کام شروع ہوگا اور پھر ایک ایسی شکل سامنے آئے گی جو پوری دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت رکھے گی۔

یوگی حکومت میں ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بتایا کہ ایودھیا کی از سر نو تعمیر کو بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھایا جائے گا۔ اسے اتنا خوبصورت اور عظیم بنایا جائے گا کہ دنیا کے نقشے میں یہ ویٹکن سٹی اور مکہ سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایودھیا میں بین الاقوامی ائیر پورٹ، بس استیشن اور ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ہی بنیادی وسائل مہیا کرائے جائیں گے۔ ترقیاتی کاموں کے ذریعہ اسے عظیم شکل دی جائے گی، لیکن اس کی شناخت، تہذیب و ثقافت اور وجود سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔‘‘

سدھارتھ ناتھ سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ایودھیا کو دنیا کا سب سے بڑا مذہبی شہر بنانے کے لیے یوگی حکومت بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی مدد حاصل کرنے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایودھیا کی تعمیر و ترقی کا کام ہندوستانی شہر کی طرز پر ہی کیا جائے گا لیکن یہ بین الاقوامی شہر سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آئے گا۔‘‘

سپریم کورٹ کے ذریعہ رام مندر کے حق میں سنائے گئے فیصلہ پر داخل کی گئی نظرثانی عرضی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یوگی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ’’ملک میں ہندو اور مسلمان سبھی امن و امان چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی عرضی داخل کرنے والے فریق کو بھی ان کے اپنے سماج کی حمایت نہیں مل رہی ہے۔‘‘

Published: 7 Dec 2019, 12:11 PM