یو پی حکومت کو جھٹکا، مختار انصاری کے بھائی کی جائداد قرق کرنے کا ڈی ایم کا حکم منسوخ
منصور انصاری کی اپیل قبول کرتے ہوئے جسٹس راجبیر سنگھ نے کہا کہ حکومت محض بے بنیاد الزامات یا صرف اس لئے کہ ایک شخص گینگسٹر سے وابستہ ہے، اس کی بنیاد پر گینگسٹر ایکٹ کے تحت جائیداد ضبط نہیں کر سکتی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے غازی پور میں سابق ممبراسمبلی مختار انصاری کے رشتے کے بھائی کی غیر منقولہ جائیداد کو قرق کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کسی بھی جرم اور ضبط شدہ جائیداد کے درمیان تعلق قائم کرنے میں ناکام رہی۔ منصور انصاری کی مجرمانہ اپیل کو قبول کرتے ہوئے جسٹس راجبیر سنگھ نے واضح کیا کہ حکومت محض بے بنیاد الزامات یا صرف اس لئے کہ ایک شخص گینگسٹر سے وابستہ ہے، اس کی بنیاد پر گینگسٹر ایکٹ کے تحت جائیداد ضبط نہیں کر سکتی۔
قبل ازیں غازی پور کے خصوصی جج نے علاقائی پولیس کی ایک رپورٹ میں لگائے گئے اس الزام کی بنیاد پر کہ مذکورہ شخص مرحوم گینگسٹرمختار انصاری کی غیر منقولہ جائداد ہے، 26,18,025 روپے قیمت کی دکانوں اور عمارتوں کو ضبط کرنے کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ کا جائیداد ضبط کرنے کا اختیار مطلق نہیں ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے مادی ثبوت ہونے کی ضرورت ہے کہ کسی شخص نے گینگسٹر ایکٹ کے تحت بیان کردہ جرم کی آمدنی سے وہ جائیداد حاصل کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس شخص کے مجرمانہ فعل اور اس کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد کے درمیان تعلق ہونا ضروری ہے۔ کسی جرم میں محض اس کا ملوث ہونا، اس کی جائیداد قرق کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیشہ ہی یہ ثابت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جو جائیداد قرق کی جارہی ہے وہ جرم کی کمائی سے حاصل کی گئی ہے۔
عدالت نے پایا کہ اپیل کنندہ منصور انصاری کا گینگسٹر ایکٹ کے تحت کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اگرچہ مختار انصاری کے خلاف 2007 میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن اپیل کنندہ اس کیس میں ملزم نہیں تھا۔ محض اس لیے کہ اپیل کنندہ مختار انصاری کا رشتے کا بھائی ہے، یہ اس کی جائیداد قرق کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے12 مارچ کو دیئے گئے اپنے فیصلے میں، جس کی تفصیل اب سامنے آئی ہے، غازی پور کی عدالت کے فیصلے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کو مسترد کردیا اور مدعا علیہ کو مذکورہ جائیداد فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔