یوپی انتخاب: ووٹنگ کے بعد اب ووٹ شماری میں دھاندلی روکنے کی فکر!

بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے کسانوں سے کہا ہے کہ وہ 9 مارچ کی شام تک اپنے ٹریکٹروں میں ووٹ شماری کے مراکز پر پہنچیں اور نتیجہ کے اعلان تک وہیں قیام کریں۔

ای وی ایم، علامتی تصویر آئی اے این ایس
ای وی ایم، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش اسمبلی انتخاب میں آج آخری مرحلے کی ووٹنگ بھی ختم ہو گئی۔ یوپی کی 403 اسمبلی سیٹوں کے لیے لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر دیا اور سبھی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم میں محفوظ ہو گیا۔ اب 10 مارچ کو ووٹ شماری ہوگی اور تب تک سبھی امیدواروں کی دھڑکنیں تیز رہنے والی ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے تو ووٹ شماری میں کسی بھی دھاندلی سے بچنے کے لیے خصوصی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ کسی بھی گڑبڑی کو روکنے کے لیے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے اپنے کارکنان سے اسٹرانگ روم میں نگرانی رکھنے کو کہا ہے جہاں ای وی ایم رکھی گئی ہیں۔ کارکنان سے کہا گیا ہے کہ خاص طور پر یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ 10 مارچ کو ووٹ شماری کے دوران کوئی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔

اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پروفیسر رام گوپال یادو نے پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کو خط لکھا ہے اور سبھی امیدواروں کو بھی اس کی کاپی بھیج کر کہا ہے کہ وہ یہ یقینی کریں کہ ان کے نمائندہ سبھی ووٹ شماری مراکز کے ٹیبل پر موجود رہیں تاکہ کسی بھی طرح کے ممکنہ غلط روش پر نظر رکھی جا سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ووٹنگ شماری کے دوران ڈاک بیلٹ پیپرس پر نظر رکھی جانی چاہیے۔


بی ایس پی نے ووٹ شماری سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی نگرانی کے لیے ایک نظام بھی قائم کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مخالفین پر بھروسہ نہیں کرتے، کیونکہ وہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں۔ پارٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’سبھی امیدواروں اور سیکٹر انچارج سے کہا گیا ہے کہ وہ اسٹرانگ روم کے باہر نگرانی رکھیں، جہاں ای وی ایم رکھی گئی ہیں اور انھیں اپنے علاقوں سے ایک طے وقفے پر پارٹی دفتر میں فوٹیج بھیجنے کی ضرورت ہوگی۔‘‘

غیر جانبدار ووٹ شماری کو یقینی بنانے اور بے ضابطگیوں کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے لیے مغربی یوپی میں 10 مارچ کو سماجوادی پارٹی-آر ایل ڈی اتحاد کے ہزاروں حامی ووٹنگ شماری مراکز کے آس پاس موجود رہیں گے۔ آر ایل ڈی لیڈروں نے سبھی امیدواروں کو اپنے اپنے انتخابی حلقوں سے کم از کم 1000 حامیوں کا انتظام کرنے کی ہدایت دی ہے، جو ووٹ شماری کے دن ووٹ شماری مراکز کے آس پاس رہیں گے تاکہ ووٹ شماری کے لیے افسران پر دباؤ بنایا جا سکے۔


میرٹھ میں ضلع انتظامیہ نے 10 مارچ کو ووٹ شماری شروع ہونے تک ایک امیدوار کے تین نمائندوں کو ووٹ شماری مراکز پر رہنے کی اجازت دی ہے۔ میرٹھ میں سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر راج پال سنگھ نے کہا کہ اتحاد کے ہر امیدوار کے تین نمائندے میرٹھ کے دو ووٹ شماری مراکز پر دن رات رکے ہوئے ہیں تاکہ ای وی ایم پر نظر رکھی جا سکے۔ راج پال سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم ووٹوں کی گنتی کو لے کر جوکھم نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ خاص کر یہ دیکھنے کے بعد کہ برسراقتدار پارٹی کے لیڈروں اور حامیوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹنگ کرنے کے لیے پنچایت کے منتخب اراکین پر دباؤ ڈالا اور افسران نے بھی ان کی مدد کی۔‘‘

آر ایل ڈی کے قومی سکریٹری کلدیرے اُجول نے کہا کہ ووٹ شماری کے دوران اتحاد کے کم از کم 10 ہزار حامی موجود رہیں گے۔ اُجول کے مطابق موجودہ حالات میں وہ افسران پر یقین نہیں کر سکتے۔ وہ اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ان حامیوں کی طاقت سے غیر جانبدار ووٹ شماری یقینی کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘


اس درمیان بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے بھی دھاندلی کو لے کر اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کسانوں سے ووٹ شماری کے دن ووٹ شماری مراکز پر سخت نظر رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ٹکیت نے کسانوں کو 9 مارچ کی شام تک اپنے ٹریکٹروں میں ووٹ شماری مراکز پر پہنچنے اور نتیجہ کا اعلان ہونے تک وہیں قیام کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔