بلڈوزر کارروائی: جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت

یوپی میں بلڈوز کے ذریعے کی گئی ’یکطرفہ‘ انہدامی کارروائی کے خلاف جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر آج سماعت ہوگی، سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت میں یوپی حکومت سے جواب طلب کیا تھا

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: توہین رسالتؐ کے خلاف احتجاج اور تشدد کے بعد یوپی میں چل رہی بلڈوزر انہدامی کارروائی کے خلاف جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر سپریم کورٹ میں آج پھر سماعت ہونے جا رہی ہے۔ جمعیۃ کا الزام ہے کہ ریاست میں ہوئی تشدد کے بعد مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ تشدد کے کئی ملزمان کے ٹھکانوں پر یوگی حکومت بلڈوزر چلا رہی جس کے خلاف متعدد تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں آواز اٹھا رہی ہیں۔

یوپی میں غیر مبینہ قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا تو جمعیۃ علما ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس پر عدالتی کارروائی شروع ہوئی اور آج جمعۃ کی اسی عرضی پر دوبارہ زیر سماعت ہوگی۔


بلڈوزر ایکشن کے خلاف درخواست میں جس کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی، جمعیۃ نے الزام لگایا ہے کہ بلڈوزر کی کارروائی صرف ایک مخصوص طبقے کے خلاف کی جا رہی ہے۔ جس کے جواب میں یوپی حکومت نے کہا کہ اس کارروائی کا تعلق فسادات سے نہیں ہے اور جمعیۃ اس معاملے کو غلط رنگ دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں اتر پردیش حکومت کی طرف سے داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ جو بھی کارروائی کی گئی ہے وہ قواعد کے مطابق ہے۔ حلف نامے میں جمعیۃ کی درخواست خارج کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ سارا تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب نوپور شرما کے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ پر نازیبا تبصرہ کیا تھا۔ اس کے خلاف یوپی کے کئی شہروں میں احتجاج ہوا، جس میں تشدد پھوٹ پڑا۔ نماز جمعہ کے بعد تشدد کے دوران پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں تصادم بھی ہوا۔ جس کے بعد پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔


اتر پردیش میں یوگی حکومت کا بلڈوزر کافی دنوں سے حرکت میں تھا لیکن تشدد کے بعد شرپسندوں کی غیر قانونی تعمیرات بھی بلڈوزر کے نشانے پر آ گئیں۔ الہ آباد میں تشدد کے مبینہ کلیدی ملزم جاوید پمپ کے پرتعیش گھر پر بھی بلڈوزر چلایا گیا اور اسے منہدم کر دیا گیا۔ یوپی میں تیز کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے احتجاج درج کراتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔