بی جے پی کے رکن اسمبلی کی موت پر بیٹے کا چھلکا درد ‘دھنّیہ ہیں مودی جی‘

مرحوم کے بیٹے وشال گنگوار نے لکھا کہ کیا یہی ہے اتر پردیش حکومت اپنے ہی رکن اسمبلی کا علاج نہیں کرا پا رہی ہے۔ سی ایم آفس میں کوئی فون نہیں اٹھاتا، دھنّیہ ہے یو پی سرکار، دھنّیہ ہیں مودی جی۔‘‘

تصویر توئٹر @kesarsgangwar
تصویر توئٹر @kesarsgangwar
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس یہ نہیں دیکھ رہا کہ کون کتنا اثر رسوخ والا ہے، کس کا کیا مذہب ہے یا اس کا تعلق کس پارٹی سے ہے۔ حال ہی میں بریلی ضلع کے نواب گنج اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی کیسر سنگھ گنگوار کا کورونا وائرس سے انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال نے ان کے اہل خانہ کو پوری طرح سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ طاقتور رکن اسمبلی مرحوم کیسر سنگھ گنگوار کے بیٹے وشال گنگوار نے اپنے فیس بک پیج پر طنزیہ لکھا ہے ’دھنّیہ ہے اتر پردیش سرکار، دھنّیہ ہیں مودی جی۔‘

کیسر سنگھ جب بیمار تھے تو انہوں نے ایک خط مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی حالت بتاتے ہوئے مرکزی وزیر سے درخواست کی تھی کہ ان کو دہلی کے میکس اسپتال میں ایک بیڈ دلا دیا جائے کیونکہ ان کو پلازما تھیرپی کی ضرورت ہے۔ لیکن آج تک پر شائع خبر کے مطابق انہیں مرکز سے کوئی مدد نہیں ملی۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی کی موت پر بیٹے کا چھلکا درد ‘دھنّیہ ہیں مودی جی‘

اگر مرحوم کے بیٹے وشال گنگوار کی فیس بک پر لکھی پوسٹ دیکھی جائے تو ایسا نہیں ہے کہ انہوں نےاتر پردیش سرکار میں کوشش نہیں کی تھی۔ انہوں نےلکھا ’’کیا یہی ہے اتر پردیش حکومت اپنے ہی رکن اسمبلی کا علاج نہیں کرا پا رہی ہے۔ میں نے کئی مرتبہ وزیر اعلی دفتر کو فون کیا، مگر مجال ہے جو کوئی فون اٹھالے، دھنّیہ ہے یو پی سرکار، دھنّیہ ہیں مودی جی۔‘‘

ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی حلقوں سے مرکزی وزیر صحت کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حالات اتنی تیزی سے خراب ہو رہے ہیں کہ بی جے پی کے ارکان میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کو لگ رہا ہے کہ ان کی اپنی حکومت ہونے کے باوجود وہ کسی کی تو دور اپنی بھی مدد نہیں کر پا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔