یوپی اسمبلی انتخابات: ساتھیوں کی بغاوت کو اپوزیشن کی حمایت، گورکھپور میں وزیر اعلیٰ یوگی کے لئے خطرے کی گھنٹی!

ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی گورکھپور سے ہیں اور مسلسل 5 بار یہاں سے رکن پارلیمنٹ رہے ہیں لیکن اس بار کچھ ساتھیوں کی ناراضگی اور اپوزیشن کے محاصرہ کی وجہ سے ان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے ین ایس
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے ین ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: سمجھا جاتا ہے کہ گورکھپور سیٹ پر ہار اور جیت کا فیصلہ گورکھ ناتھ مندر کرتا ہے اور اب یہاں سے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود بی جے پی کے امیدوار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے خاص گروپ کا نمایاں چہرہ رہے سنیل سنگھ اب علیحدہ ہو چکے ہیں۔ وہ کھلے پلیٹ فارم سے سی ایم یوگی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کی تنظیم ہندو یوا واہنی بھی پہلے کی طرح فعال نہیں رہی۔ 2018 میں ہونے والے لوک سبھا کے ضمنی انتخاب کے امیدوار اوپیندر شکلا کی بیوی سوبھاوتی شکلا بی جے پی پر نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سائیکل پر سوار ہو چکی ہیں اور انہیں اپوزیشن پارٹی سے ٹکٹ کے مضبوط دعویدار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر آزاد کا الیکشن لڑنے کا اعلان بھی سرخیوں میں ہے۔

حزب اختلاف بھگوا قلعہ میں دلتوں، پسماندہ، مظلوموں کو نظر انداز کرنے سمیت ریاست کے تمام مسائل کو ہتھیار بنا کر حملہ کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا مقصد اس سیٹ پر جیت یا ہار سے زیادہ سی ایم یوگی کا محاصرہ کرنا اور انہیں یہیں الجھا کر رکھنا بھی ہے۔ ان تمام دشواریوں اور یوگی کے اثر و رسوخ کے درمیان کشمکش نے بھگوا قلعہ کے انتخاب کو دلچسپ بنا دیا ہے۔


گورکھپور کے راپتی ​​نگر کے رہنے والے سمیر کمار کا کہنا ہے کہ ’’یہ یوگی آدتیہ ناتھ کی کرم بھومی ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں الیکشن لڑنا آسان ہے۔ پرانے کارکنان پہلے سے ہی جانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے الیکشن کا انتظام آسان ہو جائے گا۔ علاقے میں انتخابی مہم چلانے کے لیے ان پر زیادہ دباؤ نہیں ہوگا۔ وہ دوسری جگہوں پر زیادہ وقت دے سکتے ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’ایک اور بات قابل غور ہے کہ اس سیٹ پر بی جے پی نہیں لڑ رہی ہے، بلکہ یوگی جی خود لڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو کسی وجہ سے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے لیکن وہ لوگ ذاتی تعلقات کی وجہ سے یوگی جی کو ووٹ دیں گے۔ جس کا انہیں بھرپور فائدہ ملے گا۔"

گورکھپور پرنسپل کونسل کے ضلع ایگزیکٹیو آفیسر رام بہل ترپاٹھی کا کہنا ہے ’’ہری شنکر تیواری کیمپ کے ونے شنکر تیواری، کشال تیواری اور گنیش شنکر پانڈے ایس پی میں شامل ہو گئے ہیں اور وہ اپیندر شکلا کی بیوی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ رام بہل ترپاٹھی کا ماننا ہے کہ برہمن طبقہ مقامی سطح پر یوگی جی سے ناراض ہے۔ اس سے یوگی کو الیکشن میں نقصان پہنچے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ ایم ایل اے ڈاکٹر رادھا موہن اگروال ابھی تک خاموش ہیں۔ وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گے یا کسی پارٹی سے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔‘‘


گورکھپور کے نوسڈھ کے رہنے والے پرہلاد کا کہنا ہے کہ اس بار اپوزیشن پارٹیوں کا مشترکہ امیدوار میدان میں نہیں ہوگا کیونکہ تمام پارٹیاں اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہیں لیکن موجودہ ایم ایل اے رادھا موہن اگروال کے حوالہ سے انہیں شبہ ہے۔ پرہلاد کہتے ہیں، ''انہوں نے مختصر رد عمل ظاہر کیا تھا کہ میں بی جے پی کا کارکن ہوں! پارٹی کا فیصلہ خوش آئند ہے لیکن اس کے بعد انہوں نے عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دیا۔ دوسری طرف اکھلیش یادو نے انہیں اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی کھلی دعوت بھی دی تھی۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

گورکھپور کے ذات پات کے مساوات بھی دلچسپ ہیں۔ موحدی پور کے رہنے والے ونود سریواستو کا کہنا ہے کہ کائستھ اور ویش برادری کے علاوہ برہمن ووٹروں کی بڑی تعداد ہے۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اوپیندر شکلا کی اہلیہ سوبھاوتی شکلا کی امیدواری اثر دکھا سکتی ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی کے وجے کمار سریواستو بھی کافی عرصے سے الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں اور اب بھیم آرمی (آزاد سماج پارٹی) کے چندر شیکھر آزاد کے آنے سے دلت ووٹوں کی تقسیم کا بھی امکان ہے۔


یوگی چونکہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں، اس لیے پارٹی کو فتح یاب بنانے کی ذمہ داری بنیادی طور پر ان کے کاندھوں پر ہے، جس کی وجہ سے ان کی توجہ صرف گورکھپور پر نہیں رہ سکتی، لیکن ان کی اپنی تنظیم ہندو یوا واہنی گزشتہ برسوں میں یوگی کی ہدایت پر سیاسی سرگرمیوں کے بجائے سماجی کاموں میں لگی ہوئی ہے۔ کسی زمانے میں واہنی میں نوجوانوں کی ایک قسم کی فوج تھی لیکن اب وہ غیر فعال ہے۔ اس کے باوجود واہنی کے زیادہ تر کارکنان دیہی علاقوں سے تھے۔ شہری علاقوں میں ان کا زیادہ اثر نہیں ہوگا۔

یوگی کا مسئلہ صرف یہی نہیں ہے۔ سنیل سنگھ، جو ہندو یوا واہنی کے صدر تھے، ایک طویل عرصے سے یوگی پر مسلسل حملہ آور ہیں۔ وہ اپنے ٹوئٹر کے ذریعے حکومت کی مخالفت میں مسلسل برس رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا، "میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ 2022 کا الیکشن یوگی آدتیہ ناتھ کو زندگی بھر یاد رہے گا۔ میں اس الیکشن کو یوگی کی زندگی کا سب سے مشکل الیکشن بنا دوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔" سنیل سنگھ کا شمار سی ایم یوگی کے قریبی لوگوں میں ہوتا تھا اور وہ انہیں اپنا گرو مانتے تھے۔


اگر ہم سیاسی مساوات پر نظر ڈالیں تو یوگی آدتیہ ناتھ کے گورکھپور سے انتخاب لڑنے کا اثر آس پاس کی سیٹوں پر ضرور پڑے گا۔ ان میں گورکھپور شہر کے علاوہ گورکھپور دیہی، سہجنواں، پپرائچ، کیمپیار گنج، بانسگاؤں (محفوظ)، کھجنی (محفوظ)، چلوپار اور چوریچورا سیٹیں شامل ہیں۔ اور اس اثر سے کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان ہوگا یہ تو 10 مارچ کو ہی سامنے آئے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔