اناؤ کی عصمت دری متاثرہ کلدیپ سینگر کے خلاف مزید ثبوت پیش کرنے کی خواہاں، ہائی کورٹ میں عرضی داخل

عدالت نے کلدیپ سینگر کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کو بھی 2 ہفتہ کے اندر عرضی پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سینئر ایڈووکیٹ این ہریہرن کلدیپ سینگر کی طرف سے پیش ہوئے۔

کلدیپ سنگھ سینگر کی فائل تصویر
i
user

قومی آواز بیورو

اناؤ عصمت دری کیس میں ایک نیا موڑ آتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ عصمت دری متاثرہ نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی، جس میں سابق رکن اسمبلی اور بی جے پی لیڈر کلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف مزید ثبوت پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ ثبوت اسی کیس سے متعلق ہے جس میں سینگر کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اور عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ متاثرہ کی عرضی جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین کی ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پہنچی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اپیل کی سماعت آخری مراحل میں ہے۔

سماعت کے دوران متاثرہ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل محمد پراچہ نے کہا کہ متاثرہ آگے ثبوت ریکارڈ کرنے اور اسکول ریکارڈ کے مطابق اس کے یومِ پیدائش سمیت دیگر دستاویزات پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ عرضی پر غور کرتے ہوئے عدالت نے اخذ کیا کہ عرضی کےس اتھ کوئی دستاویز اٹیچ نہیں تھے، اس لیے متاثرہ کو 31 جنوری تک ضروری دستاویزات فائل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کلدیپ سینگر کے ساتھ ساتھ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی)  کو بھی 2 ہفتہ کے اندر عرضی پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سینئر ایڈووکیٹ این ہریہرن کلدیپ سینگر کی طرف سے پیش ہوئے۔


دراصل دہلی ہائی کورٹ نے کلدیپ سینگر کی سزا معطل کر 23 دسمبر 2025 کو ضمانت دے دی تھی۔ حالانکہ کچھ دنوںب عد سپریم کورٹ نے 29 دسمبر 2025 کو حکم پر روک لگا دی تھی۔ متاثرہ نے 2020 کی کلدیپ سینگر کی اپیل میں ثبوت پیش کرنے کے لیے نئی عرضی دی ہے۔ اس میں سینگر کی سزا اور عمر قید کی سزا کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج دیا گیا ہے۔ کلدیپ سینگر کی سزا کو معطل کرتے ہوئے عدالت نے خاص طور سے یہ مانا تھا کہ اس کے خلاف پاسکو ایکٹ کے سیکشن 5(سی) کے تحت جرم نہیں بنتا ہے۔ عدالت نے مانا کہ پہلی نظر میں یہ جرم ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت سنگین ’پینیٹریٹو سیکسوئل اسالٹ‘ کے طور پر کوالیفائی نہیں کرتا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ اپیل کرنے والے، سینگر کو پاکسو ایکٹ کے سیکشن 5(سی) یا تعزیرات ہند کے سیکشن 376(2)(بی) کے لیے پبلک سروینٹ کے زمرہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ٹرائل کورٹ نے پہلے سینگر کو سنگین ’پینیٹریٹو سیکسوئل اسالٹ‘ کے لیے اس بنیاد پر قصوروار ٹھہرایا تھا کہ وہ پبلک سروینٹ کی تعریف میں آتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔