اناؤ عصمت دری معاملہ: متاثرہ ایمس سے ڈسچارج، کنبہ کو دہلی میں رہنے کی ہدایت

عدالت کی ہدایت کے پیش نظر متاثرہ اپنے کنبہ کے ساتھ آئندہ ایک ہفتہ تک ایمس کے جے پرکاش ٹراما سینٹر کے ہوسٹل میں رہے گی۔ متاثرہ کے ساتھ اس کی ماں، دو بہنیں اور بھائی بھی رہیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: اناؤ عصمت دری متاثرہ کو علاج کے بعد آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) سے چھٹی دے دی گئی ہے، متاثرہ اور اس کا کنبہ فی الحال دہلی میں رہے گا۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ کو منگل کے روز ایمس سے ڈرسچارج کیا گیا۔ تیس ہزاری عدالت نے متاثرہ کے کنبہ کو دہلی میں ہی رہنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کی ہدایت کے پیش نظر متاثرہ کنبہ کے ساتھ آئندہ ایک ہفتہ تک ایمس کے جے پرکاش ٹراما سینٹر کے ہوسٹل میں رہے گی۔ ہوسٹل میں متاثرہ کے ساتھ اس کی ماں، دو بہنیں اور بھائی بھی رہیں گے۔

متاثرہ کے کنبہ والوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ گاؤں میں ان کی جان کو خطرہ ہے اور سیکورٹی کے پیش نظر وہ دہلی میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے متاثرہ کے کنبہ کی درخواست پر انہیں دہلی میں رہنے کی ہدایت دی۔ معاملہ کی اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔

اناؤ ضلع کی بانگرمئو اسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر اس معاملہ میں اہم ملزم ہیں۔ سینگر پر الزام ہے کہ متاثرہ جب نابالغ تھی اس وقت اس کی عصمت دری کی گئی۔ سینگر کے خلاف فرد جرم داخل کی جا چکی ہے اور ششی سنگھ اس معاملہ میں شریک ملزم ہے۔

اترپر دیش کے سہ سرخیوں میں رہنے والے معاملہ کی متاثرہ اس وقت شدید طور پر زخمی ہوگئی تھی جب اس کی کار کو ٹرک نے ٹکر مار دی تھی۔ یہ واقعہ 28 جولائی کو پیش آیا تھا۔ اس حادثہ میں متاثرہ کی چچی اور خالہ کی جائے حادثہ پر ہی موت ہوگئی تھی جبکہ وہ اور اس کا وکیل بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔

اس حادثہ کے بعد پہلے متاثرہ کا علاج لکھنؤ میں ہوا لیکن بعد میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد متاثرہ اور وکیل کو علاج کے لئے ایمس لایا گیا۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔