اناؤ عصمت دری: یوگی کو گورکھپور لوٹ جانا چاہئے ، متاثرہ کو دیکھنے پہنچے اجے کمار للو کا بیان

کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے کہا کہ اتر پردیش میں جنگل راج قائم ہے، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ریاست نہیں سنبھل رہی، لہذا انہیں واپس گورکھپور لوٹ جانا چاہئے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش ریاستی کانگریس (یو پی سی سی) کے صدر اجے کمار للو بدھ کے روز اناؤ کی اس عصمت دری کی متاثرہ جسے اپنے مقدمہ کی پیروی کرنے جاتے وقت پیٹرول اور ڈیزل ڈال کر جلا دیا گیا، سے ملاقات کے لئے سول اسپتال پہنچے، حالانکہ پولس نے انہیں متاثرہ یا اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ متاثرہ تقریباً 90 فیصد جل چکی ہے لکھنؤ کے سول اسپتال میں داخل ہے۔

اسپتال میں متاثرہ کی عیادت لے لئے اجے کمار للو نے کہا کہ اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت سے صوبہ کی نظم و نسق کی صورت حال قابو میں نہیں آ رہی ہے جس کی وجہ سے ہر طرف جنگل راج نظر آتا ہے۔ نیز یوگی آدتیہ ناتھ کو واپس گورکھپور لوٹ جانا چاہئے۔

واضح رہے کہ اناؤ کے تحت آنے والے بہار تھانہ علاقہ کے گاؤں ہندو نگر کی کی رہائشی متاثرہ کو جمعرات کے روز زندہ جلانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ متاثرہ کو جلانے کا الزام بھی انہیں لوگوں پر عائد ہوا ہے جن پر اس کی آبرو ریزی کا الزام ہے۔ پولس نے اس معاملہ میں 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان حال ہی میں ضمانت پر جیل سے چھوٹ کر باہر آئے تھے اور اب ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پیٹرول ڈال کر عصمت دری کی شکار متاثرہ کو زندہ جلا دیا۔

ریاستی کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے یو پی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جنگل راج مکمل طور پر قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جرائم کم ہونے کا جھوٹا دعوی کر کے اپنی پیٹھ تھپتھپا ہیں۔ یوپی کے ڈائرکٹر جنرل آف پولس بھی اعداد و شمار کی بازیگری کر کے یہ کہتے ہیں ہے کہ جرائم میں کمی آئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتر پردیش میں قتل اور عصمت دری کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، این سی آر بی (نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو) کی رپورٹ کے مطابق یوپی خواتین کے تئیں جرائم کے معاملہ میں پورے ملک میں سر فہرست آ چکا ہے اور یہ شرمناک بات ہے۔

ریاستی کانگریس کے صدر اجے کمار للو 90 فیصد تک چل چکی زندگی اور موت کے درمیان جد و جہد کر رہی متاثرہ کی عیادت کے لئے لکھنؤ کے سول اسپتال پہنچے۔ برن یونٹ کے گیٹ پر موجود پولس انتظامیہ کی طرف سے روکے جانے پر انہوں نے وہاں موجود ڈاکٹروں سے متاثرہ کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ڈاکٹروں سے تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے وہاں موجود اعلی پولس افسران پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ واقعے کے تفتیش کار نے کس کے دباؤ میں کمزور تفتیش کی اور ملزمان کو جیل سے رہا کرنے میں مدد کی؟ انہوں نے کہا آخر عصمت دری جیسے گھناؤنے جرم کے معاملہ میں ملزمان اتنی جلدی جیل سے کیسے باہر آ جاتے ہیں؟ کیا ان مجرمان کو اقتدار کی پشت پناہی حاصل نہیں تھا؟ اہل خانہ سے ملاقات کرنے کا مطالبہ کرنے پر بھی پولس نے کہا کہ وہ یہاں موجود نہیں ہیں، اس سے بھی اپنے آپ ایک بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے؟

Published: 5 Dec 2019, 4:53 PM