سابق بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو عمر قید کی سزا، 25 لاکھ کا جرمانہ

خبروں کے مطابق جس وقت سزا سنائی جا رہی تھی کلدیپ سینگر جج کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔ عدالت نے سی بی آئی کو متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو ضروری تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اناؤ عصمت دری اور اغوا معاملے میں مجرم قرار دیئے گئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو تیس ہزاری کورٹ نے سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے جمعہ کے روز کلدیپ سینگر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ علاوہ ازیں 25 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ واضح رہے کہ عصمت دری کا الزام عائد ہونے کے بعد اناؤ سے رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو بی جے پی نے پارٹی سے برخاست کر دیا تھا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جس وقت سزا سنائی جا رہی تھی کلدیپ سینگر جج کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا تھا۔ عدالت نے سی بی آئی کو متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو ضروری تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

قبل ازیں تیس ہزاری عدالت میں جمعہ کے روز سینگر کو سزا کے معاملے میں بحث پوری ہو گئی تھی اور عدالت نے دوپہر دو بجے کے بعد فیصلہ سنا دیا۔ سینگر کو عصمت دری اور اغوا کے ایک معاملے میں عدالت نے پیر کے روز قصوروار ٹھہرایا تھا۔ اس سے پہلے عدالت نے سماعت پوری کر کے 10 دسمبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

سماعت کے دوران مرکزی تفتیشی بیورو کے وکیل نے عدالت سے سینگر کو زیادہ سے زیادہ سزا دیئے جانے کی اپیل کی تھی۔ جانچ ایجنسی کی طرف سے دلیل دی گئی ہے کہ یہ معاملہ صرف عصمت دری کا نہیں بلکہ ذہنی طور پر استحصال سے بھی منسلک ہے۔

دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے 16 دسمبر کو سینگر کو آئی پی سی کی دفعہ 376 اور پوکسو کی دفعہ 6 کے تحت قصورور قرار دیا تھا۔ جبکہ سزا پر 17 دسمبر کو بحث ہوئی۔ اس سے قبل عدالت نے کہا تھا کہ وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہتی کیوں کہ اناؤ ریپ کا معاملہ گھناؤنی سازش، قتل اور واردات سے بھرا ہوا ہے۔

اناؤ عصمت دری کا معاملہ

اناؤ کے بانگر مئو سے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے قریب رہنے والی ایک 17 سالہ لڑکی 4 جون 2017 کو اس کے پاس نوکری مانگنے پہنچی تھی۔ لڑکی کو وہاں لے کر جانے والی خاتون کا نام ششی سنگھ تھا جوکہ سینگر کی قریبی تھی۔ پھر اچانک ایک دن لڑکی نے انکشاف کیا کہ رکن اسمبلی سینگر نے اس کی آبروریزی کی ہے۔

اس معاملے میں پہلے رکن اسمبلی سینگر کے بھائی اتل نے متاثرہ لڑکی کے والد کو بے رحمی سے پیٹا، پھر اسے سازش کے تحت جھوٹے مقدمات میں پھنسایا اور اسے تھانے بھیج دیا، جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں کافی وقت بعد اتل کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم ایم ایل اے سینگر جیل جانے کے بعد بھی حرکتوں سے باز نہیں آیا، وہ متاثرہ اور اس کے اہل خانہ کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔

28 جولائی 2019 کو متاثڑہ اپنے چچا، چچی اور وکیل کے ساتھ اس معاملے کے سلسلے میں اپنی کار میں سفر کر رہی تھی۔ تبھی شاہراہ پر ایک ٹرک نے ان کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ جس کی وجہ سے متاثرہ کے اہل خانہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ وہ اور اس کا وکیل شدید زخمی ہوگئے۔ اس معاملے میں سینگر پر قتل، اقدام قتل، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں سینگر کے بھائی منوج سنگھ سینگر، ششی سنگھ اور ان کے ساتھیوں سمیت 10 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔

next