اناؤ ریپ کیس: کلدیپ سنگھ سینگر کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، ضمانت عرضی پر سماعت سے انکار
سپریم کورٹ نے اناؤ ریپ کیس میں سزا یافتہ سابق رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی ضمانت عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا اور دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ اپیل کی سماعت 3 ماہ میں مکمل کی جائے

نئی دہلی: اناؤ ریپ کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پیر کے روز ان کی ضمانت عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ زیر التوا اپیل کی سماعت تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔
سپریم کورٹ کے سامنے سماعت کے دوران سینگر کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کے موکل تقریباً نو سال سات ماہ کی سزا کاٹ چکے ہیں، جب کہ نچلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی کل سزا دس سال ہے۔ اس بنیاد پر انہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ بھی ان کی ضمانت عرضی مسترد کر چکی ہے۔
مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ سینگر ریپ کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور معاملہ نہایت سنگین نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کیس میں ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور یہاں تک کہ خطرناک دہشت گردوں اور سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو بھی منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تشار مہتا نے اس موقع پر کہا کہ ممبئی حملوں کے مجرم قصاب کو بھی مکمل قانونی عمل کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اپیل کی غیر جانبدارانہ سماعت ہو۔
واضح رہے کہ سینگر کے خلاف دو الگ الگ معاملات میں عدالتی کارروائی جاری ہے۔ ایک معاملہ اُناؤ ریپ کیس سے متعلق ہے، جب کہ دوسرا متاثرہ لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں موت سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں مقدمات مختلف سطحوں پر زیر سماعت ہیں۔
19 جنوری کو دہلی ہائی کورٹ نے سینگر کی ضمانت عرضی کو مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا، تاہم عدالت عظمیٰ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے معاملے کو ہائی کورٹ میں ہی جلد نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔
یاد رہے کہ ریپ کے مقدمے میں سینگر کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ایک دوسرے معاملے میں ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دی تھی، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر روک لگاتے ہوئے ضمانت منسوخ کر دی تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔