اناؤ ریپ کیس: دہلی ہائی کورٹ کو ایمس میں مستقل عدالت قائم کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے سنسنی خیز سڑک حادثے کے بعد دہلی کے ایمس میں اترپردیش کے اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ کا بیان درج کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کو مستقل عدالت قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سنسنی خیز سڑک حادثے کے بعد آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں داخل اترپردیش کے اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ کا بیان درج کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کو ایمس میں مستقل عدالت قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے جمعہ کو دہلی ہائی کورٹ کو متاثرہ کا بیان درج کرنے کی غرض سے ایمس میں مستقل عدالت قائم کرنے کی ہدایت دی۔ متاثرہ کا بیان ریکارڈ کیے بغیر کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی۔ بنچ نے کیس کی تفتیش کرنے والی مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔

غورطلب ہے کہ28 جولائی کو بغیر نمبر پلیٹ والے ٹرک نے اس کارکو شدید ٹکر مار دی تھی جس میں اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ سفر کررہی تھی۔ حادثے میں متاثرہ اور اس کا وکیل شدید طور پر زخمی ہوگئے اور متاثرہ کی دو خاتون رشتہ دار کی موت بھی ہوگئی۔

حادثے کے بعد متاثرہ کی ماں نے ریپ کے ملزم رکن اسمبلی کلدیپ سینگر پر قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔ متاثرہ اور اس کے اہل خانہ نے حادثے کے بعد چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو خط لکھ کر سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا ۔ عدالت نے یکم اگست کو ریپ کیس سے متعلق چار معاملے دہلی منتقل کر دیے اور معاملے کی سماعت روز مرہ کی بنیاد پر کرکے 45 دن کے اندرمکمل کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ کو 35لاکھ روپیے کی عبوری امدادی رقم دے۔

عدالت نے بعدمیں معاملے کی تفتیش بھی دہلی منتقل کردی اور جانچ ایجنسی سی بی آئی کو جانچ مکمل کرنے کے لیے 7دن کا وقت دیا تھا جسے 19 اگست کو بڑھا کر دو ہفتے کر دیا گیا۔ اسی مدت کو آج مزید دوہفتے کے لیے بڑھا دیا گیا۔