امام علیؑ بین الاقوامی کانفرنس: ’اتحاد اسلامی حکومت کے استحکام کی بنیادی شرط‘

حضرت علیؑ کا دورِ خلافت انسانوں کے درمیان مساوات کا بہترین نمونہ ہے جس میں ریاست، سماج کے ہر فرد کےحقوق کے تحفظ کے لئے سینہ سپر نظر آتی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

نواب علی اختر

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے 1400سال پورے ہونے کے موقع پر دہلی اقلیتی کمیشن کے تعاون سے ادارہ سفینة الہدایہ ٹرسٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اینڈ عرب اسٹڈیز کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر،دہلی میں جاری سہ روزہ عظیم الشان’ امام علی بین الاقوامی کانفرنس‘ کے دوسرے روز اتوار کو’امام علی سرچشمہ عرفان تصوف اسلامی وفہم قرآن‘ کے موضوع پر ہندوستان و بیرون ممالک کے اہل علم اور معروف دانشوروں نے مذہب اسلام کی عظیم شخصیت حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات پر مشتمل مقالے پیش کئے ۔

اسلامک کلچرل سینٹرکے مرکزی آڈیٹوریم میں منعقدہ کانفرنس کے پانچویں اکیڈ مک سیشن میں مقالہ نگاروں نے حضرت علی کی حیات طیبہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کو آج جس بحران کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لئے حضرت علی کی تعلیمات بہترین رہنما ثابت ہوسکتی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حضرت علی کا دورِ خلافت انسانوں کے درمیان مساوات کا بہترین نمونہ ہے جس میں ریاست، سماج کے ہر فرد کے حقوق کے تحفظ کے لئے سینہ سپر نظر آتی ہے۔ حضرت علی کے ذریعہ اپنے عاملوں کو لکھے گئے خطوط میں اس بات کی جھلک ملتی ہے کہ ایک حاکم کو رعیت کے ساتھ انصاف اور جوابدہی کا کیسا معاملہ کرنا چاہئے؟۔ مقررین نے حضرت علی پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کو وقت کی ضرورت کے عین مطابق بتایا اور کہا کہ مو لا علی کی شخصیت کو مخصوص مذہب یا مسلک کے نقطہ نظر سے دیکھنے کے بجائے اگر ایک منتظم، معلم ،مدبر، حقوق انسانی کے محافظ اور انسانی مساوات کے داعی کے طور پر دیکھا جائے تو دنیا کو بہت روشنی مل سکتی ہے۔

امام علیؑ بین الاقوامی کانفرنس: ’اتحاد اسلامی حکومت کے استحکام کی بنیادی شرط‘

معروف مورخ پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین ہمدانی نے نہج البلاغہ کے نسخوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت علی کی شہادت کے طویل عر صے بعد نہج البلاغہ کیوں تدوین ہوئی؟ پرفیسر عزیز الدین حسین نے کہا کہ اس کی وجہ اس دور کے سیاسی حالات تھے ۔ بنو عباس کی حکومت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ حضرت علی کے آثار کی تدوین کا کام کیا جا سکے۔ جب بنو عباس کی حکومت کی چولیں ہلنے لگیں تب کہیں جاکر سید رضی کے ہاتھوں یہ کام انجام پا سکا۔ پروفیسر عزیز الدین نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ نہج البلاغہ کے قدیم ترین نسخے عرب کے بجائے ہندوستان میں ملتے ہیں۔

علامہ سید ذوالقدر رضوی نجفی(باب المراد سینٹر،لندن) نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہم حضرت علی کے فضائل و مناقب کو اہمیت تو دیتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ حضرت علی کی تعلیمات سے مستقبل کا لائحہ عمل ملتا ہے ۔ حضرت علی نے قرآن کو بار بار پڑھنے اور سمجھنے کی تلقین کی تھی لیکن ہم نے اسے بھی چھوڑ دیا، اس کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان پریشان ہیں، ہم مسلمانوں کے پاس قرآن مجید جیسی مقدس کتاب ہے لیکن ہم اسے پڑھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی زحمت نہیں اٹھاتے ۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ حضرت علی نے کہا تھا کہ اگر فقر انسان ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا ، حضرت علی نے فقر کی مذمت کی تھی ، پوری دنیا میں آج جو افراط و تفریط نظر آتا ہے اس کی وجہ سرمائے کی ذخیرہ اندوزی اور ایک جگہ اکٹھا ہو جانا ہے۔ انھوں نے غلط دولت کی پالیسی کے خاتمہ کی بات کرتے ہوئے کہاکہ اتنی ترقی کے باوجود بھی دنیا فقر سے آزاد نہیں ہوئی ہے ، حضرت علی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کا بٹوارہ حق و انصاف کے ساتھ ہو ۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے آئے ڈاکٹرمحمد احمد کاظمی نے اسلامی حکومت (تعلیمات حضرت علی کی روشنی میں) موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے حضرت علیؑ کے اقوال، مکتوبات اور بطور خلیفہِ راشد ان کے طرز عمل کی روشنی میں اسلامی حکومت کے بنیادی اصول بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد بھی اسلامی حکومت کے استحکام کی بنیادی شرط ہے۔جامعہ ہمدرد کے ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے حضرت علیؑ کی بارگاہ میں غیر مسلم علماءاور شعراء کے خراج عقیدت کے موضوع پر بولتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے اسکالر اور شعرا حضرت علی کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد، سابق وائس چانسلر عربی فارسی یونیورسٹی مولانا مظہر الحق نے اردو شاعری میں حضرت علی کے تذکر ے پر تفصیلی گفتگو کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر لطیف حسین شاہ کاظمی نے اسلامی روحانی روایت میں حضرت علی کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام علی کی زندگی کے مطالعہ سے اپنے اعمال کے تئیں حساسیت کا علم ہوتا ہے ، امام علی کی تعلیمات روحانیت سے جوڑتی ہے جو اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔

مولانا مرزا شفیق حسین شفق نے مو لائے کائنات حضرت علی کی شان میں مقالہ پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا غالب نے فارسی اور اردو میں قصیدہ خوانی کا جو علمی ثبوت دیا ہے اس میں حضرت علی کی شان میں مدح سرائی کی گئی ہے ۔ڈاکٹرعنایت اللہ نے اپنے مقالے میں حضرت علی کے مکی اور مدنی دور کا اجمالی خاکہ پیش کیا، انہوں نے اپنے مقالے میں مو لا ٰ علی کے اوصاف، کرامات اور ان کی دینی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر سیدہ شارقة المولیٰ القادری ، علی احمد فاطمی، سید مجتبیٰ رضوی، ڈاکٹر سید مجید اندرابی، مولانا سید مسعود اختر رضوی، مولانا سید مختار حسین جعفری، مولانا سید سیادت نقوی ، سید در الحسن رضوی ، پروفیسر فضل امام رضوی ، ڈاکٹر سید طیب رضا نقوی، اشفاق کریم، ڈاکٹر نصیر الدین ٹی، ڈاکٹر عذرا عابدی، امدادالحق بختیار قاسمی وغیرہ نے بھی مقالات پیش کئے۔

Published: 19 Aug 2019, 10:09 AM