اپریل ماہ میں بے روزگاری بڑھ کر 8.1 فیصد ہوئی، 47 لاکھ لوگ ملازمت سے ہوئے محروم: سی ایم آئی ای

سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکونومی (سی ایم آئی ای) کے کنزیومر پرامڈ ہاؤس ہولڈ سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ 47 لاکھ لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

علامتی تصویر / آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

لوک سبھا انتخاب کی سرگرمیوں کے درمیان مودی حکومت کے لیے بری خبر سامنے آ رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ یعنی اپریل 2024 میں تقریباً 47 لاکھ لوگوں کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے اشخاص کے درمیان بے روزگاری شرح اپریل 2024 میں بڑھ کر 8.1 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ یہ مارچ میں 7.4 فیصد رہی تھی۔ یہ رپورٹ بے روزگاری کے معاملے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی اپوزیشن پارٹیوں کے لیے مزید ایک اسلحہ کی طرح ہے۔

دراصل سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکونومی (سی ایم آئی ای) کے کنزیومر پرامڈ ہاؤس ہولڈ سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ 47 لاکھ لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا۔ ان میں سب سے زیادہ، تقریباً 90 فیصد، حصہ داری گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی ہے۔ گاؤں میں بڑے پیمانے پر روزگار ختم ہونے کی وجہ سے محنت کش طبقہ کا گروپ 42.30 لاکھ گھٹ کر اپریل میں 28.88 کروڑ رہ گیا۔


اپنی رپورٹ میں سی ایم آئی ای کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخاب کا بھی روزگار پر اثر پڑتا ہے۔ 2019 میں جب عام انتخاب ہوا تھا تب بھی لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار میں یہ روش اور تبدیلی دیکھی گئی تھی۔ بہرحال، سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری شرح گزشتہ 12 مہینوں میں 7.3 فیصد سے 9.4 فیصد کے درمیان رہی ہے۔ اس طرح اس مدت کار میں شرح بے روزگاری اوسطاً 8.15 فیصد رہی ہے۔ اپریل ماہ میں 8.1 فیصد کی شرح بے روزگاری حالیہ مہینوں کی سطح سے زیادہ ہے۔ 2016 کے بعد گزشتہ 9 سالوں میں 7 سال کے دوران اپریل میں ہر بار بے روزگاری بڑھی ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں محنت کش طبقہ کا گروپ مارچ کے 43.38 کروڑ سے گھٹ کر اپریل میں 42.91 کروڑ رہ گیا تھا۔ اس کی اہم وجہ دیہی محنت کش قوت میں گراوٹ ہے۔ حالانکہ شہری علاقوں میں حالات مارچ کے مطابق ہی رہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایل پی آر (مزدور حصہ داری شرح) گھٹ کر 40.9 فیصد اور روزگار ملنے کی شرح کم ہو کر 37.6 فیصد رہ گئی۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ دیہی ہندوستان میں شرح بے روزگاری اپریل میں بڑھ کر 7.8 فیصد پہنچ گئی جو کہ مارچ میں 7.1 فیصد رہی تھی۔ دوسری طرف سرگرم طور پر روزگار کی تلاش کر رہے دیہی بے روزگاروں کی تعداد بڑھ کر 2.44 کروڑ پہنچ گئی۔ شہری بے روزگاری شرح بھی مارچ کے 8.1 فیصد سے بڑھ کر 8.7 فیصد پر پہنچ گئی۔ روزگار ملنے کی شرح بھی 36.4 فیصد سے معمولی کم ہو کر 36.2 فیصد رہ گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔