کیرلم میں بے روزگاری، تعلیمی زوال اور منشیات کا بحران سنگین شکل اختیار کر چکا ہے: کانگریس
کانگریس نے بتایا کہ 2024 میں تقریباً 3000 اسکولی بچوں کو نشہ چھڑانے کے مراکز میں داخل کرایا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منشیات کا مسئلہ اب یونیورسٹیوں سے پرائمری و مڈل اسکولوں تک پہنچ چکا ہے۔

’’کیرلم میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ کر 29.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 47.1 فیصد ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تعلیمی نظام طلبا کو وہ مہارتیں فراہم نہیں کر پا رہا جو روزگار کے لیے ضروری ہیں۔ خاص طور پر جدید مہارتیں، مثلاً مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جن کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔‘‘ یہ بیان آج کیرلم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ریاست کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دیا۔ اس دوران انھوں نے بایاں محاذ (ایل ڈی ایف) حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
سپریا شرینیت نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ پیش کردہ ’نالج اکانومی‘ کا تصور محض ایک کھوکھلا نعرہ ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے ’کیرلم نالج اکانومی مشن‘ (کے کے ای ایم) پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 20 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن اس تعلق سے کوئی شفاف اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ یعنی یہ دعوے بے بنیاد معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں خاندانی دولت بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ والدین اپنے بچوں کی بیرون ریاست تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی جائیدادیں رہن رکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ صرف 2024 میں 27,724 منشیات سے متعلق کیسز درج کیے گئے، جبکہ 2020 سے 2024 کے درمیان تقریباً 87,000 کیسز سامنے آئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایل ڈی ایف کے بعض اراکین اسمبلی کے اہل خانہ بھی منشیات کی اسمگلنگ کے معاملات میں گرفتار ہو چکے ہیں، جن میں کوڈیری بالاکرشنن کے بیٹے کی کرناٹک میں گرفتاری اور کایم کولم کے ایک رکن اسمبلی کے بیٹے کی گرفتاری شامل ہے۔
سپریا شرینیت نے پریس کانفرنس میں کچھ اہم سوالات بھی اٹھائے۔ انھوں نے پوچھا کہ منشیات کی اسمگلنگ کو کس کی سرپرستی حاصل ہے؟ کیا یہ سب کچھ ایل ڈی ایف حکومت کی حمایت سے ہو رہا ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان نیٹورکس میں شامل کئی افراد کے قریبی تعلقات ایل ڈی ایف سے بتائے جاتے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ کانگریس لیڈر نے مزید بتایا کہ صرف 2024 میں تقریباً 3000 اسکول جانے والے بچوں کو نشہ چھڑانے کے مراکز میں داخل کرایا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منشیات کا مسئلہ اب یونیورسٹیوں سے نکل کر پرائمری و مڈل اسکولوں تک پہنچ چکا ہے۔
آخر میں سپریا شرینیت نے سوال اٹھایا کہ آخر منشیات اتنی آسانی سے دستیاب کیسے ہو رہی ہیں؟ کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت، پولیس اور انتظامیہ کی معلومات کے بغیر ممکن نہیں، جس سے ریاستی نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔