متھرا: اسپتال میں زیر علاج لڑکی کی آبروریزی، کمپاؤنڈر پر الزام

پولس ذرائع نے سنیچر کو بتایا کہ ہائی وے علاقے میں واقع اسپتال میں ایک لڑکی کو علاج کے لئے بھرتی کرایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ علاج کے دوران ایک کمپاونڈر نے جمعہ کی رات اس کے ساتھ عصمت دری کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

متھرا: اترپردیش کے ضلع متھرا کے ہائی وے علاقے میں واقع اسپتال میں زیر علاج ایک بچی کے ساتھ اسپتال کے کمپاونڈر کے ذریعہ عصمت دری کیے جانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ پولس ذرائع نے سنیچر کو بتایا کہ ہائی وے علاقے میں واقع اسپتال میں ایک لڑکی کو علاج کے لئے بھرتی کرایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ علاج کے دوران ایک کمپاونڈر نے جمعہ کی رات اس کی عصمت دری کی۔

انہوں نے بتایا کہ متأثرہ کے بھائی کی جانب سے دی گئی تحریر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ا س کی بہن سٹی اسپتال ہائی وے میں زیر علاج تھی، جمعہ کی رات تقریباً 12 بجے کمپاونڈر نے اس کی بہن کے ساتھ منھ کالا کیا۔

اس نے بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچا تو کمپاونڈر شیام سندر اور نرس فرار ہونے لگے۔ شیام سندر کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس کی پٹائی کردی گئی۔ ایف آئی آر میں اسپتال کے دو ڈاکٹروں ڈاکٹر گورو اور ڈاکٹر پنکج کے خلاف سازش رچنے کا معاملہ درج کرایا گیا ہے۔

پولس نے بتایا کہ متأثرہ کا ابھی طبی معائنہ نہیں کرایا گیا ہے۔ لڑکی کا بھائی اس کے بہتر علاج کے لئے اسے جے پور لے گیا ہے۔ اس کی حالت بہتر ہوجانے کے بعد اس کا طبی معائنہ کرایا جائےگا۔ وہیں ابھی تک ملزم شیام شندر کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ پولس اور مجسٹریٹ کے سامنے متأثرہ کا بیان درج ہوجانے کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔

وہیں سٹی اسپتال کے ڈاکٹر گورو نے بتایا کہ یہ اسپتال کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے ہی پولس کو فون کر کے رات میں بلایا تھا۔ اسپتال میں سی سی ٹی کیمرے لگے ہیں جس کے فوٹیج پولس کو دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کی جانچ کے لئے تیار ہیں۔

Published: 21 Sep 2019, 9:10 PM