مودی حکومت کا نیا کارنامہ، ریلوے ’سی یو جی‘ کے 5 لاکھ نمبر ’جیو‘ کے حوالے

سرکاری کمپنی بی ایس این ایل نے اس قدم کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایس این ایل کو 4 جی سے محروم رکھ کر نجی کمپنیوں کو فروغ دینا غلط ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

بھاشا سنگھ

نریندر مودی صرف رافیل سودے میں ہی اپنے پسندیدہ کاروباریوں کی مدد کر رہے ہوں ایسا نہیں ہے، جیو نیٹورک کو نمبر ون بنانے کے لئے بھی ان کی حکومت نے ساری مشینری لگا دی ہے۔ سال 2019 کی ابتدا میں ہی (یکم جنوری) ریلوے نے تقریباً 5 لاکھ کلوز یوزر گروپ (سی یو جی) نمبروں کو جیو کے حوالہ کر دیا ہے۔

سرکاری کمپنی بی ایس این ایل نے اس قدم کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایس این ایل کو 4 جی سے محروم رکھ کر نجی کمپنیوں کو فروغ دینا غلط ہے۔

جانچ پڑتال کرنے پر جو حقائق منظر عام پر آئے وہ حیران کرنے والے ہیں۔ ریلوے ملازمین کے لئے جیو کمپنی 1500 روپے کا ایک موبائل ہینڈ سیٹ 600 روپے میں مہیا کرا رہی ہے۔ ریلوے کے تمام دفاتر میں جیو نے ہینڈ سیٹ فروخت کرنے کے لئے اسٹال لگائے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے موبائل خدمات کے عوض کروڑوں روپے کے بل کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے کے جیو ہینڈ سیٹ تیزی کے ساتھ فروخت ہو رہے ہیں۔ جن ریل ملازمین کے پاس 4 جی فون نہیں ہیں، انہیں لازمی طور پر اسے خریدنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ دہلی کے ایک ریلوے ملازم نے بتایا کہ ان کے فون میں نیا سم صحیح کام کر رہا ہے کیوںکہ وہ پہلے ہی سے جیو 4 جی استعمال کر ہے ہیں، لیکن ہینڈ سیٹ محض 600 روپے میں مل رہا ہے اس لئے انہوں نے اسے بھی خرید لیا۔

غور طلب ہے کہ جیو کنکشن کا بازار میں اثر بڑھتا جا رہا ہے اور بی ایس این ایل کے شیئر لگاتار گر رہے ہیں۔ بی ایس این ایل کو لگاتار نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج وہ بازار میں اس کی قدر 8ویں-9ویں مقام تک پہنچ چکی ہے۔

ایک نجی کمپنی کا ریلوے سمیت سرکاری نیٹورک پر اس طرح سے قبضہ کرنا غیر متوقع بات ہے۔ مراد آباد ریلوے میں ویلفیئر انسپکٹر پروین سنگھ نے بتایا کہ 600 روپے میں 4 جی ہینڈ سیٹ بڑی تعداد میں لوگ خرید رہے ہیں کیوںکہ اس سے پہلے ان کے پاس ایئرٹیل کا ٹو جی سروس کو سپورٹ کرنے والا ہینڈ سیٹ تھا، اس میں جیو کا نیا سم کام نہیں کر رہا ہے۔

ریلوے یونین نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ نارتھ ایسٹرن ریلوے مزدور یونین (نرمو) کے جنرل سکریٹری کے ایل گپتا نے کہا کہ ہینڈ سیٹ کا خرچ حکوت کو اٹھانا چاہیے، ملازم اپنی جیب سے پیسہ کیوں دے! آل انڈیا ریلوے مینس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری شیو گوپال مشر نے بتایا کہ چناؤ سے قبل جیو کو فائدہ پہنچانے کے لئے مودی حکومت تمام اقدام اٹھا رہی ہے، اس کے تحت ریلوے کے سی یو جی نمبروں کو اسے سونپ دیا گیا ہے۔ اصولاً اس سروس کی ذمہ داری بی ایس این ایل کو سونپی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

سوال یہ کھڑا ہو رہا ہے کہ آخر میک ان انڈیا کا ڈھول پیٹنے والی مودی حکومت بی ایس این ایل کو پیچھے دھکیلنے اور جیو کو آگے بڑھانے میں کیوں مصروف ہے!۔

بی ایس این ایل یونین کے پیرومل ابھیمنیو کہتے ہیں کہ دسمبر ماہ میں ریاستی وزیر ریل منوج سنہا سے ملاقات کے دوران وہ اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں کہ بی ایس این ایل کو 4 جی سروس کیوں نہیں دی جا رہی ہے، جبکہ ملک بھر میں ہمارا ہی نیٹورک ہے۔ غورطلب ہے کہ حال ہی میں اختتام پزیر ہونے والے اسمبلی الیکشن سے پہلے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ اور راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے بالترتیب 50 لاکھ اور ایک کروڑ جیو کنکشن مفت تقسیم کئے تھے، چھتیس گڑھ کی نو منتخب حکومت نے فی الحال اس پر روک لگا دی ہے۔

Published: 3 Jan 2019, 6:13 PM