بی جے پی لیڈروں کی وجہ سے اقلیتوں پر حملے میں اضافہ: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور این آر سی کے ذریعہ اقلیتی طبقہ کو پریشان کیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اقوام متحدہ میں خصوصی رپورٹر (برائے نسل پرستی کی معاصر شکلوں، نسلی تفریق، جنسی و متعلقہ عدم برداشت) تیندائی ایچیومی نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ بی جے پی لیڈران اقلیتی طبقات کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں جس کے سبب مسلمانوں اور دلتوں پر حملوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پیش کردہ اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے 2017 میں اقوام متحدل جنرل اسمبلی کے قرارداد میں تمام ممالک کے ذریعہ نسل پرستی، نسلی تفریق، غیر ملکی ممالک کو ناپسند کرنے اور عدم برداشت پر دی گئی رپورٹ کی مدد لی گئی ہے۔

ایچیومی نے اپنی اس رپورٹ میں ہندوستان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہندو راشٹروادی پارٹی بی جے پی کی فتح کو دلتوں، مسلمانوں، قبائلیوں اور عیسائی سماج کے خلاف تشدد سے جوڑا جاتا ہے۔ اقلیتی طبقات کے خلاف بی جے پی لیڈروں کی جانب سے لگاتار اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے رہے ہیں جس سے مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ رپورٹ نیشنلزم کی مقبولیت سے حقوق انسانی کو پیدا چیلنجز کے اصولوں کی بنیاد پر بھی تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدم برداشت کو فروغ دینے، تفریق کو آگے بڑھانے سے نسلی تفریق بڑھتی ہے اور لوگوں میں دوریاں بڑھتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے ہندوستان میں متنازعہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے کہا ہے کہ کئی ممالک میں نیشنلسٹ پارٹی غیر قانونی مہاجرین کے معاملے میں انتظامی اصلاح لے کر آئے جس میں سرکاری شہری رجسٹر سے اقلیتی طبقات کو باہر کر دیا گیا۔ ایچیومی نے یہ بھی تذکرہ کیا کہ اس سال مئی میں انھوں نے حکومت ہند کو خط لکھا تھا جس میں انھوں نے این آر سی معاملے کو اٹھایا تھا۔ رپورٹ میں انھوں نے آسام میں رہنے والے بنگالی مسلم اقلیتوں کے مسائل بھی بیان کیے جنھیں تاریخی طور پر ’غیر ملکی‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

تیندائی ایچیومی نے این آر سی مسئلہ پر مزید لکھا ہے کہ انتخابی کمیشن کی ووٹر لسٹ میں تو لوگوں کے نام شامل ہیں لیکن این آر سی سے غائب ہیں جو کہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ 1997 میں بھی اس عمل کو اختیار کیا گیا تھا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں آسام میں بنگالی مسلمانوں کے حقوق پر قینچی چل گئی تھی۔ مقامی انتظامیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ اس نے کئی مسلم لوگوں اور بنگالی بولنے والے لوگوں کو قصداً دور رکھا تاکہ انھیں اَپ ڈیٹ این آر سی رجسٹر سے باہر رکھا جا سکے۔

next