یو جی سی کے امتیاز مخالف ضوابط درست قدم، مگر بغیر خودمختار کمیٹی بے معنی: این ایس یو آئی
این ایس یو آئی نے یو جی سی کے ذات پر مبنی امتیاز کے خلاف ضوابط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی طلبہ و اساتذہ اور ججوں کی شمولیت ضروری ہے

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذات پر مبنی امتیاز کے خلاف جاری کیے گئے ضوابط پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ملک بھر کے تعلیمی کیمپس میں امتیازی رویوں سے نمٹنے کی سمت ایک ضروری قدم قرار دیا ہے۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم ان ضوابط کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم مجوزہ کمیٹی علامتی یا انتظامی نوعت کی نہیں ہونی چاہئے اور اس میں تمام طبقات کی شمولیت ہونی چاہئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ این ایس یو آئی طویل عرصے سے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور یو جی سی کے حالیہ ضوابط اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں۔ تنظیم کے مطابق تعلیمی کیمپس میں مساوات اور انصاف کے قیام کے لیے اس طرح کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
این ایس یو آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجوزہ کمیٹی صرف علامتی یا انتظامی نوعیت کی نہیں ہونی چاہیے۔ بیان کے مطابق کمیٹی میں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی لازمی نمائندگی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہی طبقات سے تعلق رکھنے والے تدریسی عملے کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی آزادی، شفافیت اور اعتبار کو یقینی بنانے کے لیے اس میں حاضر سروس یا ریٹائرڈ ججوں کی شمولیت ضروری ہے۔ این ایس یو آئی کے مطابق موجودہ یو جی سی ضوابط میں کمیٹی کی قیادت اور ساخت کے حوالے سے کوئی واضح تفصیل درج نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے زیر اثر کسی بھی قسم کی کمیٹی مساوات اور انصاف کے بنیادی مقصد کو پورا نہیں کر سکتی۔ این ایس یو آئی نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کئی کمیٹیاں، خصوصاً امتیازی سلوک سے متعلق، محض رسمی کارروائی تک محدود رہیں اور شکایات کے مؤثر ازالے میں ناکام ثابت ہوئیں۔
این ایس یو آئی نے بیان میں این ایف ایس، ریزرویشن پالیسیوں کے عدم نفاذ، تدریسی عہدوں میں خالی آسامیوں، زیادہ ڈراپ آؤٹ شرح اور آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور مرکزی جامعات میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام مسائل فوری مداخلت کے متقاضی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ این ایس یو آئی اعلیٰ تعلیم میں ذات، جنس یا کسی بھی شناخت کی بنیاد پر ہونے والے ہر قسم کے امتیاز کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے اور یو جی سی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایک بااختیار، آزاد اور مؤثر کمیٹی قائم کرے جو زمینی سطح پر کام کرے اور انصاف کو یقینی بنائے۔