ادھو ٹھاکرے نے سشانت معاملے میں توڑی خاموشی

ادھو ٹھاکرے نے اپوزیشن لیڈر فڈنویس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جو خود 5 سال وزیر اعلی رہا ہو، وہ ریاستی پولیس کے قابل ہونے پر شبہ ظاہر کرے۔ ہم ان کے ذریعہ ریاستی پولیس پر تبصرے کی مذمت کرتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: مہاراشٹرا کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے فلمی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے میں خاموشی توڑتے ہوئے پہلی بار کہا ہے کہ ممبئی پولیس اس معاملے کی تحقیقات کرنے میں مکمل طور پر اہل ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ کسی دیگر ایجنسی سے تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے بجائے اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پولیس کے دے۔ ادھو ٹھاکرے کا یہ بیان اپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویس کے رد عمل اور اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کےذریعہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کرنے کے بعد آیا ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جو خود پانچ سال وزیر اعلی رہا ہو، وہ ریاستی پولیس کے قابل اعتبار ہونے پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہم ریاستی پولیس پر تبصرے کی مذمت کرتے ہیں۔ فڈنویس نے یہ بھی کہا تھا کہ سوشانت کی موت کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو منی لانڈرنگ کے پہلو سے تحقیقات کے لئے مقدمہ درج کرنا چاہیے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ممبئی پولیس ایک کورونا وایئرس رہی ہے اور اس کے بہت سے اہلکاروں کے انفیکشن کی وجہ سے موت ہوچکی ہے۔ اس کی اہلیت پر سوال کرنا اس کی توہین کے مترادف ہے اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ ریاستی پولیس اس معاملے کی بہتر طریقے سے جانچ کرے گی اور مجرم کو سزا دے گی۔ تاہم ، براہ کرم اس معاملے کو مہاراشٹر بمقابلہ بہار کا مسئلہ نہ بنائیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کہا تھا کہ ممبئی پولیس اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔

next