یو اے ای نے سیلاب متاثرہ کیرالہ کو دیے 700 کروڑ

مرکزی حکومت نے سیلاب سے متاثر کیرالہ کو 500 کروڑ روپے کی مدد دی ہے لیکن متحدہ عرب امارات کے ذریعہ 700 کروڑ روپے کی امداد کے بعد مودی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سیلاب سے بری طرح متاثر کیرالہ کی مدد کے لیے مرکز کی مودی حکومت نے بھلے ہی محض 500 کروڑ روپے دیے ہیں لیکن کئی ریاستی حکومتیں اور پرائیویٹ ادارے اپنی استطاعت کے مطابق بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کے ذریعہ دی گئی تازہ جانکاری کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی طرف سے بھی 700 کروڑ روپے کی معاشی مدد حاصل ہوئی ہے۔ پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی کابینہ نے گورنر سے اس بات کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ 30 اگست کو سیلاب کے بعد کیرالہ کی راحت رسانی اور باز آبادکاری کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائیں۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلاب سے بری طرح متاثر کیرالہ کو راحت پہنچانے کے لیے یو اے ای سے ملنے والی معاشی مدد مرکز کی مودی حکومت کی طرف سے ملنے والی معاشی مدد کے مقابلے کہیں زیادہ ہے اس لیے مودی حکومت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ دراصل اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ 500 کروڑ کی مدد کیرالہ کے لیے کافی نہیں ہے اس لیے اس رقم کو مزید بڑھایا جائے۔ اب جب کہ یو اے ای کے ذریعہ 700 کروڑ روپے کی مدد دی جا رہی ہے تو مودی حکومت پر سوال اٹھنا لازمی ہے کہ باہری ممالک کیرالہ کی خطرناک حالت کو سمجھ رہے ہیں لیکن مودی حکومت اس سے آنکھیں چرا رہی ہے۔

کانگریس صدر راہل گاندھی نے گزشتہ 18 اگست کو ایک ٹوئٹ کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی سے گزارش کی تھی کہ کیرالہ میں آئے سیلاب کو قومی آفت قرار دیا جائے۔ اس ٹوئٹ کو انھوں نے ری-ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’کیرالہ راحت کے لیے الاٹ رقم کو بڑھا کر 500 کروڑ کرنا اچھا قدم ہے لیکن یہ کافی کے قریب بھی نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ سیلاب کو قومی آفت قرار دیں۔ برائے کرم کیرالہ کے متاثرین پر کوئی شبہ نہ کریں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔