مودی کے خلاف بن رہی ہوا سے گھبرائی وی ایچ پی کا ’یو ٹرن‘، رام مندر تعمیر تحریک ملتوی

ایودھیا معاملہ عدالت میں زیر التوا ہونے کے باوجود وی ایچ پی مندر جلد تعمیر کے لیے تحریک چلا رہی تھی جس سے مودی مخالف فضا تیار ہو رہی ہے۔ اس کے پیش نظر اس نے تحریک 4مہینے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

رام مندر تعمیر کو لے کر حال ہی میں پریاگ راج میں چل رہے مہاکمبھ میں وی ایچ پی کے ذریعہ طلب کی گئی دھرم سنسد کے بعد اب تنظیم نے ’یو-ٹرن‘ لے لیا ہے۔ اس نے رام مندر جلد تعمیر کرنے سے متعلق جاری تحریک کو اگلے چار مہینے تک روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وجہ ہے لوک سبھا انتخابات جو پی ایم نریندر مودی کے لیے مشکل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ دراصل رام مندر پر کوئی فیصلہ نہ لیے جانے اور مودی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں آرڈ یننس نہ لانے سے ناراض کئی ہندوتوا تنظیموں اور سادھو سنتوں نے پی ایم مودی کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا اور وی ایچ پی نے بھی مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس وجہ سے پی ایم مودی کے خلاف فضا تیار ہو گئی جس کا نقصان انھیں آئندہ لوک سبھا انتخابات میں پہنچتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وی ایچ پی کے ’یو-ٹرن‘ کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کیونکہ آر ایس ایس اور وی ایچ پی جیسی تنظیمیں مودی کی واپسی چاہتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق منگل کو دہلی میں منعقد ایک پروگرام میں وی ایچ پی کے بین الاقوامی ایڈیشنل جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے مدنظر چار مہینے تک رام مندر تحریک پر روک لگائی گئی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اب کوئی بھی یہ الزام نہیں لگا پائے گا کہ ان کی تنظیم کسی خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ سریندر جین نے یہ بھی کہا کہ ملک کی سیاسی فضا صاف رہے اس لیے ایسا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وی ایچ پی 1984 سے تحریک چلا رہی ہے اور رام مندر کی تعمیر بھی یہی کرے گی۔ بقیہ دوسری تنظیموں کے ذریعہ چلائی رام مندر تحریک کو سریندر جین نے نقل قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی کی نیت اس معاملے میں بالکل صاف ہے۔

غور طلب ہے کہ اس سے قبل پریاگ راج میں چل رہے کمبھ کے دوران وی ایچ پی کے ذریعہ منعقد دھرم سنسد میں یکم فروری کو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی زبردست مخالفت ہوئی تھی۔ ایک وقت تو ایسا آیا تھا جب پورا پنڈال بھاگوت مخالف نعروں سے گونج گیا۔ ’رام مندر بناؤ یا واپس جاؤ‘ کے نعرے بلند ہو رہے تھے جس کی وجہ سے بھاگوت کو فوراً وہاں سے نکلنا پڑا تھا۔

اس پورے واقعہ کے ٹھیک دو دن قبل یعنی 30 جنوری کو سادھو-سَنتوں کے ایک دوسرے گروپ نے پرم دھرم سنسد منعقد کر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔ سوامی سوروپانند سرسوتی کی قیادت میں ہوئے پرم دھرم سنسد میں سادھوؤں نے اعلان کیا تھا کہ 21 فروری کو ایودھیا میں مندر کی بنیاد رکھی جائے گی اور اگر انھیں روکا گیا تو وہ لوگ گولی کھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

واضح رہے کہ ایودھیا کا بابری مسجد-رام مندر تنازعہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ گزشتہ 29 جنوری کو اس معاملے پر سماعت ہونی تھی لیکن 5 ججوں کی بنچ میں سے ایک کی غیر موجودگی کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی تھی۔ ایسے ماحول میں وی ایچ پی کے اس نئے قدم کے کئی معنی ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ملک میں مودی حکومت کے دوران بڑھی بے روزگاری، کسانوں کی بدحالی، خراب ہوتی معیشت کی وجہ سے لوگوں میں حکومت کے خلاف غصے کو دیکھتے ہوئے اس ایشو کو فی الحال ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی انتخابات کے وقت رام مندر کا ایشو اٹھاتی رہی ہے اور لوگ بھی بخوبی اس بات کو سمجھنے لگے ہیں، یہی سبب ہے کہ وی ایچ پی نے فی الحال اس معاملے پر خاموش رہنے کا فیصلہ لیا ہے۔ حالانکہ اس فیصلے پر عمل کیا جاتا ہے یا پھر انتخابات کا وقت قریب آتے ہی ماحول میں فرقہ واریت کا زہر گھولنے کے مقصد سے دوبارہ رام مندر تعمیر کا ایشو اٹھایا جائے گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔