ایودھیا پر سنتوں میں دو پھاڑ، ایک دھڑے نے کیا رام مندر تعمیر کا اعلان

الہ آباد میں رام مندر تعمیر کو لے کر 31 جنوری سے یکم فروری تک منعقد ہونے جا رہی وی ایچ پی کی دھرم سنسد سے قبل سادھو-سنتوں میں دو پھاڑ ہو گئی ہیں، ایک دھڑے نے 21 فروری سے مندر تعمیر کا اعلان کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے الہ آباد میں جاری کمبھ کے بہانے رام مندر معاملہ کو پھر ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت وی ایچ پی نے دھرم سنسد کا اعلان کیا ہوا ہے۔ 31 جنوری سے لے کر یکم فروری تک منعقد ہونے جا رہی اس دھرم سنسد سے قبل سادھو سنتوں میں شگاف پیدا ہو گیا ہے اور ایک دھڑے نے رام مندر کی تایخ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

بدھ کے روز الہ آباد میں شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی کی طرف سے ’پرم دھرم سنسد‘ کے نام سے سادھو-سنتوں کا اجلاس بلایا گیا۔ اجلاس کے دوران رام مندر تعمیر پر بحث کی گئی اور اس کے بعد مندر تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی ایک تجویز پیش کی گئی جسے منظور بھی کر لیا گیا۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ 21 فروری کو رام مندر تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا جس کی ذمہ داری سادھو-سنتوں کے کاندھوں پر ہوگی اور اس کے لئے سادھو-سنت ایودھیا کی جانب کوچ کریں گے۔

شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی کی طرف سے منعقد کیا گیا اجلاس گزشتہ 3 دنوں سے جاری تھا۔ اس دوران شنکراچاریہ نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ رام جنم بھومی کو چھوڑ کر وسرے مقام پر مندر تعمیر کی سازش رچی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ہائی کورٹ کی حکم عدولی نہیں کر رہے ہیں۔ جب تک سپریم کورٹ کی طرف سے ہائی کورٹ کا حکم مسترد نہیں کیا جاتا تب تک وہ لاگو ہے۔ جہاں رام جنم بھومی ہے وہاں رام للا براجمان ہیں اور ہم ایودھیا جا کر رام جنم بھومی پر ہی مندر کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ الہ آباد میں چل رہے کمبھ کے دوران پہلے سے وی ایچ پی کی دھرم سنسد مجوزہ ہے۔ وی ایچ پی کی یہ دھرم سنسد 31 جنوری سے یکم فروری تک چلے گی جس میں مہنت نریتہ گوپال داس کے ساتھ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو بھی شامل ہونا ہے۔ لیکن وی ایچ پی کی دھرم سنسد کا انعقاد ہوتا اس سے قبل ہی ایک دوسرے دھڑے نے علیحدہ سے دھرم سنسد کا انعقاد کر کے مندر تعمیر کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔

شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی کی طرف سے پیش کردہ تجویز کو سوامی اوی مکتیشورانند نے پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا، ’’رام مندر کے لئے پُر امن اور عدم تشدد پر مبنی تحریک چلائی جائے گی۔ تعمیر کیلئے زمین نہیں سونپے جانے تک جیل بھرو تحریک بھی چلے گی۔ سنت روکے جانے پر گولی کھانے کو بھی تیار ہیں۔‘‘

الہ آباد میں چل رہے کمبھ کے دوران دھرم سنسد کے انعقاد کے بہانے چناؤ سے پہلے رام مندر معاملہ کو ہوا دینے کی کوشش کا خدشہ تو تھا لیکن وی ایچ ہی کی دھرم سنسد سے قبل ہی دوسری دھرم سنسد کی طرف سے رام مندر تعمیر کی تاریخ طے کئے جانے کا اعلان کئے جانے سے لگ رہا ہے کہ اب سادھو-سنتوں میں ہی جنگ چھڑنے جا رہی ہے۔