کھاد کی قلت اور مالی تنگی کی وجہ سے للت پور میں دو کسانوں نے خودکشی کر لی

للت پور میں گزشتہ کچھ دنوں میں اب تک کھاد کی کمی کی وجہ سے کم سے کم تین کسانوں کی موت ہونے کا معاملہ سامنے آچکا ہے۔

علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اترپردیش کے ضلع للت پور میں ہفتہ کو کھاد کی قلت اور مالی تنگ دامانی کا سامنا کررہے دو کسانوں نے خودکشی کرلی۔

موصول اطلاع کے مطابق للت پور میں کسان کی خودکشی کا پہلا معاملہ ضلع کے صدر کوتوالی علاقے کے مسورا کھرد گاؤں کا ہے۔اس گاؤں میں میں مبینہ طور سے کھاد نہ ملنے سے پریشان ایک کسان نے ہفتہ کو کھیت میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ متوفی نے سوسائڈ نوٹ میں خودکشی کی وجہ میں کھاد نہ ملنے کا بھی ذکر کیا ہے۔ کسان کی خودکشی کا دوسرا واقعہ تھانہ بان پور کے تحت پولیس چوکی کیل گواں کا ہے۔ کیل گواں باشندہ گنیش ولد جلوا ریکوار نے اپنے کھیت کے کوئیں میں کود کر خود کشی کرلی۔


قابل ذکر ہے کہ للت پور میں گزشتہ کچھ دنوں میں اب تک کھاد کی کمی کی وجہ سے کم سے کم تین کسانوں کی موت ہونے کا معاملہ سامنے آچکا ہے۔ بندیل کھنڈ سمیت ریاست کے مختلف اضلاع میں کھاد کی کمی سے کسانوں کو ہورہی پریشانی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ گزشتہ کل ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے للت پور جاکر کھاد کی کمی کی وجہ سے موت کے شکار کسانوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔

صدر کوتوالی کے انچارج اسنپکٹر وی کے مشرا نے بتایا کہ مسورا کھرد گاؤں باشندہ رگھویر پیٹیل(37) کی لاش آج کھیت میں لگے جامن کے درخت پرپھانسی کے پھندے سے لٹکی ہوئی ملی ہے۔ پولیس کے مطابق متوفی ایک زرعی زمین کا مالک تھا۔


پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے بھیج دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ متوفی کسان کی جیب سے سوسائڈ نوٹ بھی ملا ہے۔ اس میں کھاد نہ ملنے کو خودکشی کی وجہ بتایا گیا ہے۔ تحریر کے مطابق اس پرچی میں متوفی کے دستخط نہیں ہیں۔مشر ا نے بتایا کہ کسان کے اہل خانہ نے رگھویر کے قرض میں ڈوبنے اور کھاد نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہوکر خودکشی کرنے کی تحریر دی ہے۔ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔

دوسرے واقعہ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ متوفی گنیش کے پاس سے کوئی سوسائڈ نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے۔ جب وہ اپنے کھیت میں واقع کوئیں میں کودا تو اس وقت اس کے آس پاس کے کھیتوں میں موجود کسانوں نے دیکھا۔ گاؤں والوں نے اس کی اطلاع متوفی کے اہل خانہ کو دی۔ اہل خانہ نے وہاں پہنچ کر اسے باہر نکالا لیکن تب تک اس کی موت ہوچکی تھی۔


اہل خانہ نے بتایا کہ متوفی مالی طور سے پریشان تھا اور ذہنی تناؤ میں رہتا تھا۔ اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔