لکھیم پور کھیری تشدد میں مزید دو افراد حراست میں لئے گئے

مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کی زد میں آنے سے چار کسانوں کی موت کے معاملہ میں لکھیم پور کھیری پولیس نے ایک سابق رکن پارلیمنٹ کے بھتیجے انکت داس کو حراست میں لیا ہے

لکھیم پور کھیری تشدد / آئی اے این ایس
لکھیم پور کھیری تشدد / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری: مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کی زد میں آنے سے چار کسانوں کی موت کے معاملہ میں لکھیم پور کھیری پولیس نے ایک سابق رکن پارلیمنٹ کے بھتیجے انکت داس کو حراست میں لیا ہے۔ وہ مبینہ طور پر قافلہ میں موجود اس گاڑی کو چلا رہا تھا، جو آشیش مشرا کی ایس یو وی گاڑی کے عین پیچھے چل رہی تھی۔ ڈرائیور پر انکت داس کو موقع سے فرار ہونے میں مدد کرنے کا بھی الزام ہے۔

دریں اثنا، آشیش مشرا کے ایک دیگر معاون کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جس کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ وہ بھی جائے وقوعہ پر موجود تھا۔ سینئر پولیس افسران نے ملزمان کے ناموں کو ظاہر نہیں کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔


انکت کے چچا بی ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری رہ چکے تھے اور کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ بھی تھے۔ سال 2017 میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ انکت، آشیش مشرا اور ان کے والد کا قریبی بتایا جاتا ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد کے ایک دن بعد ایک ویڈیو وائرل ہونے سے انکت داس کا نام سامنے آیا۔

ویڈیو میں ایک شخص جس کے سر پر چوٹ ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے کہ وہ داس کے ساتھ دوسری ایس یو وی پر سوار تھا۔ ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار بھی نظر آ رہا ہے جو مائیک پکڑے ہوئے ہے اور زخمی شخص سے واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہا ہے۔ وہ پولیس کو بتاتا ہے کہ گاڑی انکت داس کی تھی۔

زخمی شخص کو پولیس سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ لکھنؤ کے چار باغ علاقہ میں رہتا ہے اور انکت داس کے ساتھ کام پر کھیری گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔