ملیٹری انجینئرنگ کے دو افسران کو رشوت معاملے میں قید کی سزا

تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد سی بی آئی کے خصوصی جج سوجھا سنگھ نے بھرت جوشی کو 10 سال اور منیش کمار کو پانچ سال کی سخت قید کی سزا سنائی۔

تصویر بشکریہ آئی اسٹوک
تصویر بشکریہ آئی اسٹوک
user

یو این آئی

دہرادون: اتراکھنڈ میں ایک ٹھیکیدار کے بقایہ جات کی ادائے گی کے لئے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ملیٹری انجینئرنگ سیکشن (ایم ای ایس) کے دو افسران کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے خصوصی جج نے بالترتیب 10 اور 05 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی لگایا ہے۔

سی بی آئی کے وکیل ستیش گرگ نے بتایا کہ اس معاملے میں سی بی آئی نے مقدمے کی سماعت کے دوران 14 گواہوں کو پیش کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی درجنوں دستاویزی شواہد اور الیکٹرانک ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے گئے۔ تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد پیر کے روز سی بی آئی کے خصوصی جج سوجھا سنگھ نے بھرت جوشی کو 10 سال اور منیش کمار کو پانچ سال کی سخت قید کی سزا سنائی۔ بھرت جوشی کو 55 ہزار اور منیش کمار کو بھی مختلف دفعات کے تحت 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔


یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2016 میں جس میں آئی آر ڈی ای (انسٹرومنٹ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیبلشمنٹ) میں کام کرنے والے ٹھیکیدار ہیریندر سے تقریباً 16 لاکھ روپے کی بقایا ادائے گی کے لئے 38 ہزار روپے رشوت مانگی تھی۔ ٹھیکیدار سے پہلے دس ہزار روپے دینے کو کہا گیا تھا اور باقی پانچ دن بعد۔ ادھر ٹھیکیدار نے سی بی آئی میں شکایت درج کرائی۔ 4 جولائی 2016 کو سی بی آئی کی ٹیم نے بھرت جوشی کو دہرادون کے ویگن وہار، رائے پور میں واقع بھرت جوشی کی رہائش گاہ سے اسے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔