کشمیر میں 'ٹارگٹ کلنگ' کے دو واقعات میں دو غیر مقامی مزدور ہلاک

جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے دو غیر مقامی مزدوروں کی ہلاکت کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

 علامتی فائل تصویر یو این آئی
علامتی فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

وادی کشمیر کے سری نگر اور پلوامہ اضلاع میں ہفتے کی شام 'ٹارگٹ کلنگ' کے دو واقعات میں دو غیر مقامی مزدور مارے گئے ہیں۔دو غیر مقامی مزدور کی ہلاکت کے ساتھ وادی کشمیر میں حالیہ دنوں میں 'ٹارگٹ کلنگ' کے واقعات میں مارے جانے والے غیر مقامی مزدوروں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے۔

'ٹارگٹ کلنگ' کے تازہ واقعات سری نگر کے صفا کدل اور پلوامہ کے کاکہ پورہ میں رونما ہوئے ہیں۔سری نگر کے صفا کدل علاقے میں عید گاہ کے نزدیک نامعلوم اسلحہ برداروں نے ہفتے کی شام ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک چھاپڑی فروش کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔


سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم اسلحہ برداروں نے ہفتے کی شام عید گاہ کے نزدیک اربند کمار شاہ نامی چھاپڑی فروش پر نزدیک سے گولیاں چلائیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہار کے ضلع بانکا سے تعلق رکھنے والے اربند کمار کو شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اربند کمار کے سر کو نشانہ بنا کر گولی چلائی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن چلایا، لیکن حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے۔


دریں اثنا ضلع پلوامہ کے لتر کاکہ پورہ میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک کارپینٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

مہلوک کارپینٹر کی شناخت اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے رہنے والے صغیر احمد کے طور پر کی گئی ہے۔کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے کہا گیا: 'پلوامہ میں ایک دہشت گردانہ واقعے میں سہارنپور یو پی سے تعلق رکھنے والے مزدور صغیر احمد زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔ علاقے میں تلاشی آپریشن جاری ہے'۔


قبل ازیں پانچ اکتوبر کو نامعلوم بندوق برداروں نے سری نگر کے لال بازار علاقے میں وریندر پاسوان نامی ایک پانی پوری بیچنے والے کو سر عام قتل کر دیا تھا۔ وریندر پسوان بہار کے ضلع بھاگلپور کا رہنے والا تھا اور علم گری بازار جڈی بل میں عارضی طور پر قیام پذیر تھا۔ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے دو غیر مقامی مزدوروں کی ہلاکت کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔