والدین قرض ادا نہیں کر پائے تو ڈھائی سال کی بچی کی آنکھیں نکال لیں

حیوانیت کی انتہا اس وقت ہو گئی جب ڈھائی سال کی معصوم بچی کا گلا دبا کر قتل کر دیا اور اس کے بعد اس کی آنکھیں نکال لیں کیونکہ اس کے والدین نے دس ہزار کا قرض ادا نہیں کر پائے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے علی گڑھ ضلع سے ایسی خبر آئی ہے جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ حیونیت کی اس وقت انتہا ہو گئی جب ایک ڈھائی سال کی معصوم بچی کا گلا دبا کر قتل کر دیا اور پھر اس کی آنکھیں نکال لیں۔ اس بچی کے ساتھ ظالموں نے اس لئے ایسا کیا کیونکہ اس کے والدین نے دس ہزار روپے کا قرض لیا تھا اور وہ اس قرض کو ادا نہیں کر پا رہے تھے۔

واضح رہے پولس نے اس معاملہ میں کارروائی شروع کر دی ہے اور خبر ملنے تک دو لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ اس تعلق سے پولس نے بتایا ہے کہ بچی کے ساتھ عصمت دری جیسے فعل کے کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔علی گڑھ کے ایس ایس پی آکاش کلہری کے مطابق 31 مئی کو اغوا کا ایک معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہوں نے اپنا جرم بھی قبول کر لیا ہے۔ اس حیوانیت کی وجہ ذاتی دشمنی بتائی جا رہی ہے۔

پولس نے بتایا کہ ملزمان نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے پہلے بچی کا گلا دبا کرقتل کیا اور اس کے بعد اس کی آنکھیں نکال لیں۔ پولس نے بتایا کہ بچی کے ساتھ عصمت دری نہیں کی گئی، اس بات کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی کی ہے۔ بچی کے رشتہ داروں نے احتجاج میں سڑک پر جام لگایا لیکن بعد میں پولس کے سمجھانے پر انہوں نے یہ جام ختم کر دیا اور وہ وہاں سے ہٹ گئے۔

Published: 6 Jun 2019, 6:10 PM