ٹویٹ حذف نہیں کیا ، میں اس پر قائم ہوں : ڈاکٹر ظفرالاسلام

میں نےبذات خود ٹویٹ کے لئے نہیں بلکہ اس لئے معذرت کی کہ وہ ٹویٹ ایسے وقت میں آیا جب ہمارے ملک کو ایک طبی ایمرجنسی درپیش تھی

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہاہے کہ انھوں نے بذات خود ٹویٹ پر معذرت نہیں کی ہے اور نہ ہی اسے حذف کیا ہے اور یہ کہ وہ اپنے خیالات اور نظریہ پر قائم ہیں ۔

مسٹر ظفرالاسلام نے 3مئی 2020 کو ایک توضیحی بیان ٹویٹ کے ذریعے جاری کیا اور کہا کہ ’’میڈیا کے ایک حصے نے غلط بیانی کی ہے کہ میں نے اپنے 28 اپریل کے ٹویٹ پر معذرت کرلی ہے اور اسے اپنےٹویٹر ہینڈل سے حذف کردیا ہے۔ میں نےبذات خود ٹویٹ پر معذرت نہیں کی ہے اور نہ ہی اسے حذف کیا ہے۔‘‘


انھوں نے مزید کہاکہ ’’ میں نےبذات خود ٹویٹ کے لئے نہیں بلکہ اس لئے معذرت کی کہ وہ ٹویٹ ایسے وقت میں آیا جب ہمارے ملک کو ایک طبی ایمرجنسی درپیش تھی جس کی وجہ سے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ ٹویٹ غیرمناسب اور غیر حساس تھا۔ وہ ٹویٹ اب بھی میرے ٹویٹر ہینڈل اور فیس بک پیج پر موجود ہے۔ مزید یہ کہ ، میں نے اپنے 1؍مئی 2020 کے توضیحی بیان میں واضح کردیا ہے کہ میں اپنے خیالات اور نظریے پر قائم ہوں ۔‘‘

انھوں نے کہاکہ ’’ میں اب اور مستقبل میں بھی ملک میں نفرت کی سیاست کے خلاف جدوجہد جاری رکھوں گا۔ ایف آئی آر ، گرفتاری اور جیل کی قید و بند اس راستے کو تبدیل نہیں کرتی ہیں جو میں نے اپنے ملک ، اپنے عوام ، ہندوستانی سیکولر نظام اور آئین کو بچانے کے لئے شعوری طور پر برسوں پہلے اپنے لئے منتخب کیا ہے‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔