ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود ایرانی کارروائیاں جاری، تل ابیب میں 4 ہلاکتیں، متعدد عمارتیں تباہ

اسرائیلی شہرحیفہ کی کئی عمارتیں ایرانی حملوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جہاں 18 گھنٹوں سے جاری ریسکیو آپریشن کے بعد 4 لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 4 افراد زخمی ہیں جن میں ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایران کا میزائل حملہ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے دوران ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ملک کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج،آئی آرجی سی نے امریکی صدر کے جارحانہ بیانات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔ ایران کے مطابق دھمکیوں سے مغربی ایشیا میں امریکہ کی ہوئی رسوائی نہیں مٹ سکے گی۔

آئی آر جی سی کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے دعویٰ کیا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحری افواج نے اسرائیلی کنٹینر جہاز ایس ڈی این  7پر کروز میزائل سے حملہ کیا۔ اس حملے سے بھیانک آگ لگ گئی اور تباہ ہو گیا۔ امریکی حملہ آور جہاز ایل ایچ اے7 بھی دونوں فریقوں کے درمیان ہوئی شدید گولہ باری کی زد میں آ گیا۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کی وجہ سے امریکی بحری جہازوں کو بحر ہند میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس دوران آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس نے اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ حیفہ میں اسٹریٹجک مراکز اور بیئر شیوا میں کیمیائی پلانٹس پر بھی حملہ کیا گیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق فوج نے پیٹہ تکوا میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک دستے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔


آئی آر جی سی کے مطابق ایرانی فوج کے’آپریشن وعدۂ صادق۔4‘ کے 98 ویں مرحلے میں دو بارحملے کئے گئے۔ وہیں کویت میں امریکی الادیری بیس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ اس سے پہلے ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔ ادھر عراقی اسلامی مزاحمت نے بغداد میں امریکی وکٹوریہ بیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو بھی نشانہ بنایا۔ دوسری طرف عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی شہر حیفہ کی کئی عمارتیں ایرانی حملوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جہاں 18 گھنٹوں سے جاری ریسکیو آپریشن کے بعد 4 لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 4 افراد زخمی ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ اسرائیلی فورسز نے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کا وارہیڈ (دھماکہ خیز حصہ) زمین سے ٹکرانے کے باوجود نہیں پھٹا جس میں اندازاً سیکڑوں کلوگرام بارودی مواد موجود تھا۔ اگر یہ پھٹ جاتا تو پوری عمارت تباہ ہوسکتی تھی اور قریبی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچتا البتہ کئی منزلیں تباہ ہوگئی۔

اس کے علاوہ ایک دیگر رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فضائیہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق میزائل فضا میں ہی تباہ کردیا گیا تھا جس کے باعث فضا میں اس کا راستہ بدل گیا اور میزائل کا ایک حصہ (ممکنہ طور پر وارہیڈ) رہائش عمارت پر آن گرا۔ امدادی ٹیموں نے ملبے میں دبے ہوئے افراد کو نکالا کیونکہ خدشہ تھا کہ اس میں وہ بارودی مواد موجود ہوسکتا ہے جو پھٹنے سے رہ گیا۔ ابھی ریسکیو ادارے امدادی کاموں سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ ایران نے  صبح سویرے اسی علاقے میں دوبارہ حملہ کردیا اور اس بار کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا جس میں مزید 4 افراد زخمی ہوگئے۔ واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ میں ایران نے اسرائیل پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے ہیں جس میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔