تریپورہ حکومت کے خلاف ترنمول کانگریس نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی عرضی دائر کی

سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ایک ہفتہ میں بلدیاتی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے امیدواروں اور پارٹی لیڈروں پر متعدد پرتشدد حملے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اگرتلہ: ترنمول کانگریس نے ہوم سکریٹری، پولیس ڈائریکٹر جنرل، ضلع مجسٹریٹ (مغربی تریپورہ) اور تمام اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی عرضی داخل کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے مہم چلانے کی اجازت دینے کی رہنما ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا ایم پی سشمیتادیو نے جمعہ کو کہا کہ سپریم کورٹ نے 11 نومبر کو ہوم سکریٹری، پولیس چیف اور ریاستی انتظامیہ کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تھی کہ قانون کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کو پرامن طریقے سے سیاسی مہم چلانے کے قانونی اختیارات کا استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا ہے، لیکن تریپورہ انتظامیہ ہدایات پر عمل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔


سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ایک ہفتہ میں بلدیاتی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے امیدواروں اور پارٹی لیڈروں پر متعدد پرتشدد حملے ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں انتخابی امیدواروں سمیت پارٹی کے 15 کارکن زخمی ہوئے۔ پولیس نے بی جے پی کے ان غنڈوں کے خلاف خصوصی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد بھی کسی کو گرفتار نہیں کیا، بلکہ اس کے برعکس پولیس ہمارے کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے اور جھوٹے مقدمات میں پھنسا رہی ہے۔

پارٹی نے الزام لگایا کہ ان واقعات کے ذمہ دار مذکورہ لوگ عدالت کے حکم کی تعمیل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں حالانکہ انہیں خطرے کے بارے میں پیشگی وارننگ دی گئی تھی اور اسی بنیاد پر کچھ لیڈروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم آج تک ٹی ایم سی کے ایک بھی امیدوار یالیڈر کو ریاستی انتظامیہ نے کوئی سیکورٹی فراہم نہیں کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔