کاس گنج: الطاف کی موت پر مایاوتی کا بیان ’پولیس حراست میں ایک اور نوجوان کی موت تکلیف دہ اور شرمناک‘

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش کے کاس گنج میں پولیس حراست میں ایک نوجوان کی مشتبہ موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

بی ایس پی سربراہ مایاوتی / آئی اے این ایس
بی ایس پی سربراہ مایاوتی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش کے کاس گنج میں پولیس حراست میں ایک نوجوان کی مشتبہ موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ’’کاس گنج میں پولیس کی حراست میں ایک اور نوجوان کی موت انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ حکومت واقعہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دے اور متاثرہ خاندان کی مدد بھی کرے۔


پولیس حراست میں موت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ یوپی حکومت دن بہ دن حراست میں موت کو روکنے اور پولیس کو عوام کا محافظ بنانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں کاس گنج میں ایک نوجوان الطاف احمد کی پولیس کی طرف سے پوچھ گچھ کے لیے گرفتاری کے بعد حراست میں مشتبہ حالات میں اس کی موت کے معاملے نے سیاسی طول پکڑ لیا ہے۔ پولیس اسے خودکشی کا معاملہ قرار دے رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔