متھرا میں المناک حادثہ: ندی میں کشتی الٹنے سے 10 عقیدتمندوں؍ سیاحوں کی موت، متعدد لاپتہ
ڈی ایم چندر پرکاش نے حادثے میں 6 لوگوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام لوگ پنجاب کے رہنے والے تھے۔ کشتی الٹنے سے پیش آنے والے حادثے میں اب تک 10 مرد و خواتین کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

اتر پردیش کے متھرا ضلع واقع یمنا ندی میں ایک المناک حادثے میں عقیدتمندوں؍ سیاحوں کو لے جانے والی ایک کشتی الٹنے سے 10 افراد کی موت ہوگئی اور متعدد لاپتہ ہوگئے۔ یہ اطلاع ایک سینئر افسر نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ وہیں متھرا کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) چندر پرکاش سنگھ نے حادثے میں 6 لوگوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام سیاح پنجاب کے رہنے والے تھے۔ یمنا میں کشتی الٹنے سے پیش آنے والے حادثے میں اب تک 10 مرد و خواتین کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
خبروں کے مطابق کل دیر رات ندی میں الٹنے والی کشتی کویمنا سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ کشتی میں سوار 37 افراد میں سے 5 لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ انتظامیہ ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ اس حادثے پر افسران نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے مزید 4 افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کشتی میں دو درجن سے زائد سیاح سوار تھے۔ ایک سرکاری فہرست کے مطابق مرنے والوں کی شناخت کویتا رانی (49)، چرنجیت (40)، راکیش گلاٹی، مدھر بہل، آشا رانی، پنکی بہل (38)، انجو گلاٹی، ایشان کٹاریہ، مینو بنسل اور سپنا ہنس (55) کے طور پر ہوئی ہے۔
اسی دوران سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے سے متاثر 8 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ کشتی پر سوار دیگر 14 افراد کی حالت نارمل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 5 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، فائر سروس، سول ڈیفنس، فوج کی ٹیمیں تقریباً 50 مقامی غوطہ خوروں کے ساتھ مل کر بچاؤ آپریشن میں مصروف ہیں۔
افسران کے مطابق گلاب نامی ایک مقامی غوطہ خور نے بتایا کہ اب تک تقریباً 15 افراد کو ندی سے باہر نکالا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ تیز ہواؤں کے باعث کشتی دریا کے درمیان میں تیزی سے ڈگمگانے لگی اور ایک پُل سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی۔ ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ حادثے کے وقت کشتی پر سوار لوگوں کی مجموعی تعداد کا پتا نہیں چلا ہے لیکن ان کے ساتھ جانے والوں کا کہنا ہے کہ 5 لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں اور پولیس، ایس ڈی آر ایف، فائر سروس، سول ڈیفنس، فوج اور مقامی غوطہ خور ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔
افسران نے بتایا کہ یہ عقیدتمند لدھیانہ اور پنجاب کے دیگر شہروں سے آئے تقریباً 150 افسران پر مشتمل ایک بڑے گروپ کا حصہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حادثہ کے سی گھاٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب کشتی گہرے پانی میں داخل ہونے کے بعد تیرتے ہوئے پونٹون (پیپا پل کا ایک حصہ) سے ٹکرا گئی۔ افسران نے بتایا کہ علاقے میں پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے پیپا پل کو حال ہی میں ہٹا دیا گیا تھا، جس سے ندی میں کچھ پونٹون کھلے رہ گئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں میں سے ایک پونٹون سے ٹکرانے کے بعد کشتی حادثے کا شکار ہوگئی۔
ادھر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس المناک حادثے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے متوفیوں کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ آدتیہ ناتھ نے حکام کو راحت اور بچاؤ کاموں میں تیزی لانے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ مرنے والوں کے لواحقین کو قواعد کے مطابق مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔