ممبئی-پونے ایکسپریس وے پر 30 گھنٹے بعد بھی ٹریفک جام برقرار، مسافر شدید پریشان
ممبئی-پونے ایکسپریس وے پر آدوشی سرنگ کے قریب گیس ٹینکر حادثے کے 30 گھنٹے بعد بھی ٹریفک معمول پر نہ آ سکی۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں، مسافروں کی ناراضی اور متبادل راستوں کی بندش سے مشکلات برقرار ہیں

ممبئی: مہاراشٹر میں ممبئی-پونے ایکسپریس وے پر آدوشی سرنگ کے قریب گیس ٹینکر الٹنے اور اس میں آگ لگنے کے واقعے کے 30 گھنٹے گزر جانے کے باوجود حالات پوری طرح معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ اگرچہ جلے ہوئے ٹینکر کو گزشتہ شب تقریباً ڈیڑھ بجے سڑک سے ہٹا دیا گیا تھا، اس کے باوجود ایکسپریس وے پر ٹریفک جام برقرار ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
حادثے کے باعث ممبئی جانے والی لین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ٹریفک پولیس نے اُرسے ٹول ناکے سے پہلے ہی ممبئی کی سمت جانے والی گاڑیوں کو روک دیا ہے اور انہیں واپس پونے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سیکڑوں گاڑیوں کے ڈرائیور اور مسافر راستے میں پھنس گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قدم مزید بھیڑ اور افراتفری سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ آگے جا کر صورتحال زیادہ سنگین نہ ہو۔
یاد رہے کہ آدوشی سرنگ کے قریب ایک گیس ٹینکر بے قابو ہو کر الٹ گیا تھا جس کے بعد اس میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کے شعلے اس قدر بلند تھے کہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر ایکسپریس وے کو کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند رکھنا پڑا۔ اس دوران متعدد مسافر تقریباً 21 گھنٹے تک جام میں پھنسے رہے۔ رات گئے ٹینکر ہٹائے جانے کے بعد ٹریفک کو جزوی طور پر بحال کیا گیا، لیکن حادثے کے 30 گھنٹے بعد بھی ٹریفک کی روانی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہے۔
مسافروں اور ڈرائیوروں میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ ٹریفک اور شاہراہ حکام کی جانب سے صورتحال کے بارے میں بروقت اور درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ایک مسافر نے شکایت کی کہ اگر انہیں پہلے سے صحیح اطلاع مل جاتی تو وہ ٹول ناکہ عبور کرنے سے گریز کرتے اور غیر ضروری اخراجات سے بچ سکتے تھے۔
مسافر نتیش کامبلے نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بدھ کی دوپہر ممبئی کے لیے روانہ ہوئے تھے، مگر ٹریفک جام کے باعث انہیں رات سڑک پر ہی گزارنی پڑی۔ ان کے مطابق صبح تک حالات بہتر ہونے کی امید تھی، لیکن آج بھی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام گاڑیوں کو آگے جا کر یو ٹرن لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور واضح معلومات نہ ملنے سے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایکسپریس وے پر سفر کرنے والے افراد کو فی الحال شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔