ٹریڈ یونینوں نے مودی حکومت کے خلاف کھولا محاذ، 12 فروری کو ملک گیر ہڑتال میں شامل ہوں گے 30 کروڑ مزدور

ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سکریٹری کے مطابق اس بار 12 فروری کو بلائی گئی ہڑتال میں کم از کم 30 کروڑ مزدور حصہ لیں گے۔ اس سے پہلے ہوئے دھرنے اور مظاہرے میں تقریباً 25 کروڑ مزدوروں نے حصہ لیا تھا

<div class="paragraphs"><p>فوٹو نوجیون</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک کی 10 بڑی ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے کہا ہے کہ 12 فروری کو ملک گیرعام ہڑتال کی کال برقرار ہے اور امید ہے کہ ملک بھر سے کم از کم 30 کروڑ مزدور اس احتجاج میں شامل ہوں گے۔ یونینوں کے گروپ نے 9 جنوری 2025 کو مرکزی حکومت کی ’مزدور مخالف، کسان مخالف اورملک مخالف کارپوریٹ نواز پالیسیوں‘ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی۔

آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سکریٹری امرجیت کور نے پیر کے روزنامہ نگاروں کو بتایا کہ اس بار12 فروری ( جمعرات) کو بلائی گئی ہڑتال میں کم از کم 30 کروڑ مزدور حصہ لیں گے۔ اس سے پہلے ہوئے دھرنے اور مظاہرے میں تقریباً 25 کروڑ مزدوروں نے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کا اثر ملک بھر کے 600 اضلاع میں نظر آئے گا جو گزشتہ سال کے تقریباً 550 اضلاع سے زیادہ ہے۔


کورنے یہ بھی کہا کہ ٹریڈ یونینوں کے شرکت کے دعوے ضلع اوربلاک سطح پرکی گئی مضبوط تیاریوں پرمبنی ہیں اور کسانوں کے ساتھ ساتھ دیگرفیڈریشن بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہڑتال کے اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اڈیشہ اور آسام مکمل طور پر بند رہیں گے اور دیگر ریاستوں میں بھی تحریک کا خاصا اثر پڑے گا۔ جوائنٹ فورم کے ایک بیان کے مطابق یونائیٹڈ کسان مورچہ نے اپنے اور ٹریڈ یونینوں کے مطالبات کی حمایت میں مظاہروں اور متحرک ہونے کی مکمل حمایت کی ہے۔

اسی طرح یونائیٹڈ فرنٹ آف ایگریکلچرل لیبر یونین بھی اس مہم کا حصہ ہے، جو ہڑتال میں شامل ہورہی ہے جس میں منریگا کی بحالی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ تقریباً تمام ریاستوں میں مزدوروں، کسانوں اور عام لوگوں کے درمیان تمام شعبوں، سرکاری، عوامی اور پبلک سیکٹر کے اداروں، صنعتی علاقوں، دیہی اور شہری ہندوستان میں مزدوروں، کسانوں اورعام لوگوں کے درمیان بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی ہیں۔ کئی مقامات پرطلبہ اور نوجوانوں کے گروپ ان مہم میں شامل ہو گئے ہیں۔ عام شہری ہڑتال کے مطالبات کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔